اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

جنسی ہراسگی کے بڑھتے واقعات، حکومت بھی متحرک، بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ حکومت سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والوں کو با عزت اور با وقار ماحول فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔کسی کو بھی ملازمین یا ساتھ کام کرنے والوں کو ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہر کسی کو صاف ستھرے اور ہرقسم کے ظلم اور امتیاز سے پاک ماحول میں عزت نفس کے ساتھ کام کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر سید مظہر علی ناصر سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر اسلام آباد چیمبر کے صدر عامر وحید، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر ملک زبیر، وفاقی چیمبر کے چئیرمین کو آردینیشن ملک سہیل اور دیگر بھی موجود تھے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ منفی رویہ نہ صرف افراد کیلئے تباہ کن ہے بلکہ اس سے اداروں کو بھی نقصان ہوتا ہے کیونکہ ملازمین اپنے آپ کو غیر محفوظ اور زیادتی کا شکار سمجھتے ہیں جس سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔اس موقع پر کشمالہ طارق اور سید مظہر علی ناصر نے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنے پر اتفاق کیا جس کے تحت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سیمینار کروائے جائیں گے جبکہ ایف پی سی سی آئی تمام چیمبروں اور کاروباری تنظیموں میں آگہی پھیلائے گااور کاروباری برادری اس ادارے سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ اسکے علاوہ ایف پی سی سی آئی کا ہراساں کرنے کے بارے میں جو بھی شکایت ملے گی اس پر وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کا ادارہ فوری کاروائی کرے گا۔ اس موقع پر ملک سہیل حسین نے کہا کہ متعدد نجی اور سرکاری اداروں میں ملازمین کو ہراساں کرنے کے واقعات ہو رہے ہیں مگر انھیں رپورٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔ تمام اداروں کو اپنے ملازمین میں منفی رویہ کے خاتمہ کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…