جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں جنسی زیادتی کی شرمناک وارداتوں میں ہولناک اضافہ، روزانہ کتنے بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جارہے ہیں؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

ڈیرہ اللہ یار(نیوزڈیسک) بچوں پر جنسی تشدد کیخلا ف کام کرنے والی تنظیم ساحل بلو چستان کے ریجنل کوارڈینٹر غلام ربا نی ٹا نوری اور لیگل ایڈوائزر غلا م سرور ابڑونے کہا ہے کہ تنظیم ساحل کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطا بق پا کستا ن میںروزانہ 9بچے جنسی زیا دتی کا شکار ہو رہے ہیں سال 2017میں 3445بچوں کو جنسی زیادتی کا شکار ہوئے گزشتہ برس کی نسبت اس سال بچو ں سے جنسی تشدد کے واقعات میں 9فیصد اضا فہ ہوا جبکہ 2017میں جنسی تشدد کے دوران 109بچوں کو قتل کیا گیا

ان خیا لا ت کا اظہارانہو ں نے نیشنل پر یس کلب میں پر یس کانفر نس کر تے ہوئے کیا ان کہنا تھا کہ سالانہ اعدار شمار کے مطا بق 2017میں 2077لڑ کیا ں اور1368لڑکو ں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا گیا جن کی عمر11سے پندہ سال کے درمیا ن ہیں تشدد کے واقعات میں پنجاب پہلے نمبر پر ہے جہا ں63فیصد واقعات رونما ہو ئے ہیں جبکہ سند ھ میں 27بلو چستان میں 4فیصد اسلام آباد میں3فیصد کے پی کے میں2فیصد جبکہ 12واقعات گلگت بلتستان میں رونما ہو ئے جن میں 72فیصد واقعات پو لیس کے پاس درج ہوئے اور99واقعات کو درج کر نے سے پو لیس نے انکار کیا سال2017میں کم عمری کی شادی کے 143واقعات رپورٹ ہو ئے جن میں 89لڑ کیو ں اور11فیصد لڑ کوں کی کم عمری میں شادی کرائی گئی جو بچو ں پر جنسی تشدد کے واقعات میں شامل ہو تا ہے ایسے واقعات میں سند ھ پہلے نمبر رہا جہا ں 63فیصد واقعات ہو ئے پنجا ب میں 32فیصد رپو رٹ ہو ئے ان کا کہنا تھا معاشرے کے بہتری اور ایسے واقعات کی روک تھا م کیلئے قانو نی ادارو ں کے ساتھ سماج کے ہر فرد کو اپنا ادا کر نا ہو گا ساحل ایسے واقعات کے حوالے سے کمیو نٹی لیول پر شعور آگا ہی کیلئے کا م کر رہی ہیں اور مختلف گا ؤں میں جا کر وہاں والدین کو بچوں کے حوالے سے آگاہی دی جاتی ہے تا کہ ایسے واقعات کی روک تھا م ممکن ہو سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…