بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

روزانہ سبز چائے پینا صحت کے لیے فائدہ مند کیسے؟

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)عمر کے ساتھ جسمانی وزن میں اضافہ قدرتی ہوتا ہے اور کوئی بری بات بھی نہیں۔ تاہم اگر یہ اضافہ بہت زیادہ ہو تو پھر ضرور پریشان ہونا چاہئے کیونکہ موٹاپا متعدد امراض جیسے ذیابیطس، کینسر، امراض قلب، بلڈ پریشر اور ایسے ہی متعدد جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھانے والا سب سے بڑا عنصر ہے۔ تاہم جب وزن کم کرنے کی بات ہو تو پھر کیا کرنا چاہئے ؟ تو اس کے لیے دوستوں کی جانب سے شرمندہ کیے جانے پر ایک خاتون نے ایک ماہ تک ایک مخصوص چیز کو غذا کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا۔

ایک ہفتے تک ناشتے میں انڈوں کا استعمال کیوں کرنا چاہئے؟ اس خاتون نے موٹاپے اور توند سے نجات کے لیے جم جانے اور صحت بخش غذاﺅں کے ساتھ اپنی غذائی پلان میں سبز چائے کو شامل کیا اور ایک ماہ تک روزانہ اس گرم مشروب کے 3 کپ نوش کیے۔ اس سے خاتون کو یہ درج ذیل فوائد حاصل ہوئے۔ جسمانی توانائی میں اضافہ اس خاتون کے بقول سبز چائے کو غذا کا حصہ بنانے سے وہ خود کو زیادہ توانائی سے بھرپور محسوس کرنے لگی جبکہ جلد کی صحت بھی بہتر ہوئی۔ اس مشروب کے استعمال سے پہلے ان کی جلد کیل مہاسوں کا شکار تھی تاہم سبز چائے نے ان کا خاتمہ کرکے چہرہ شفاف اور چمکدار بنادیا۔ زہریلا مواد خارج کرے طبی ماہرین کی وجہ سے اکثر سبز چائے کے استعمال کا مشورہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس کی وجہ سے دیا جاتا ہے، جو کہ جسم میں موجود زہریلے مواد کو خارج کرتے ہیں، اس میں موجود فلیونوئڈز اور کیفین میٹابولک ریٹ کو بڑھاتے ہیں جس سے انسولین ایکٹیویٹی بہتر ہوجاتی ہے۔ سبز چائے پینے کے یہ فائدے جانتے ہیں؟ توند سے نجات جی ہاں سبز چائے توند کی اضافی چربی کو گھلانے میں مدد دیتی ہے، اس خاتون نے ایک ماہ تک اس کا استعمال کیا اور نمایاں فرق محسوس کیا۔ سبز چائے میں موجود ایک ایکٹیو اینٹی آکسائیڈنٹ catechins، جو میٹابولزم کو کی رفتار بڑھا کر چربی کو تیزی سے گھلاتا ہے۔

احتیاط تاہم خیال رہے کہ زیادہ مقدار میں سبز چائے کے استعمال سے معدے کے مسائل، ہیضہ اور آئرن کی کمی وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے، اسی طرح نیند کم ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ 3 سے 4 کپ سے زیادہ اس مشروب کا استعمال کرنے گریز کرنا بہتر ہے۔  یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…