جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث بااثر شخصیات کا نمبر بھی آگیا،عدالت کے حکم پر بڑی کارروائی شروع

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

لاہور ( مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث بااثر شخصیات کیخلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست وفاقی سیکرٹری خزانہ کو بھجوادی۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار مقامی شہری اے کے بٹ نے موقف اختیار کیا کہ ٹیکس چوری کرنا قومی جرم اور ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،

قیام پاکستان سے آج تک بااثر شخصیات نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کی اور اربوں کا ٹیکس چوری کر کے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، بااثر شخصیات نے ٹیکس چوری کیلئے حکومتوں میں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کیا، ٹیکس چوروں کے اس اقدام سے حکومتوں کو قرضے لینے پڑے اور ملک کودیوالیہ بنایا گیا۔ درخواست گزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ ٹیکس چوروں کیخلاف کارروائی اور موثر قانون سازی کے احکامات صادر کیے جائیں۔ جس پر فاضل عدالت نے درخواست دادرسی کیلئے سیکرٹری فنانس ڈویڑن کو بھجوا تے ہوئے درخواست گزار کو سن کر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث بااثر شخصیات کیخلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست وفاقی سیکرٹری خزانہ کو بھجوادی۔گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار مقامی شہری اے کے بٹ نے موقف اختیار کیا کہ ٹیکس چوری کرنا قومی جرم اور ملکی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے  بااثر شخصیات نے ٹیکس چوری کیلئے حکومتوں میں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کیا، ٹیکس چوروں کے اس اقدام سے حکومتوں کو قرضے لینے پڑے اور ملک کودیوالیہ بنایا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…