جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی کی یہ حالت ہوگی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا،سپیکر اور چیئرمین سینٹ بھی بے بس

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) حکومت کی آئینی مدت میں چند روز باقی ہونے کے باعث پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی میں سی ڈی اے حکام کی فرائض سے غفلت کے باعث جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ گئے، اکثر ملازمین غیر حاضر ، باتھ رومز پارلیمنٹیرین کے کمرے راہداریوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث سینٹرز اورممبران اسمبلی کے بچے بھی بیمار ہونے لگے ہیں سپیکر قومی اسمبلی ،چیئرمین سینٹ اور چیئرمین CDA سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، 10کروڑ کا بجٹ کہاں جاتا ہے ۔

تحقیقات کرائی جائیں۔پارلیمنٹ کے معتبر ممبران اسمبلی اور سینیٹرز نے آن لائن کو بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی اور سینیٹ سیکرٹریٹ میں سی ڈی اے کے ملازمین نے اپنے فرائض سے کام چوری کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے،صفائی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں،باتھ روم میں جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر لگے پڑے ہیں،ممبران اسمبلی اور سینیٹرز نے بتایا کہ حکومت کی اپنی مدت5جون کو مکمل ہورہی ہے اور اس کے جانے میں چند دن باقی ہیں جس کے باعث سی ڈی اے کے پارلیمنٹ لاجز اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تعینات ملازمین عیاشیوں میں مگن ہوگئے ہیں،چھوٹے ملازمین اپنے سینئرز کا حکم نہیں مانتے ہیں،باتھ روم مںی صفائی کے ناقص انتظامات میں روزانہ کی بنیاد پر جراثیم کے خاتمہ کے سپرے نہیں کیا جاتا ہے،ممبران اسمبلی اور سینیٹرز قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں میں احتجاج کرکے تھک گئے ہیں مگر ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔انہوں نے بتایا کہ سپیکر اسمبلی ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ سے بھی درجنوں مرتبہ تحریری طور پر شکایت کرچکے ہیں،مگر شنوائی نہیں ہوئی ہے،اس کے لئے قومی اسمبلی میں10کروڑ سے زائد کا بجٹ ہے،مگر پیسہ کہاں جاتا ہے ممبران حیران ہیں،چیئرمین سی ڈی اے کی ہدایت کے باوجود صفائی کے ناقص انتظامات ہیں اس کا ایکشن حکومت کو لینا چاہئے۔ایک سینئر پارلیمنٹیرین نے بتایا کہ حکومت کی اپنی مدت5جون کو مکمل ہورہی ہے جس کے باعث سی ڈی اے کے افسران غیر حاضر یا حکم تسلیم نہیں کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…