جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’میر شکیل الرحمان بیمار ہیں تو اسٹریچر پر عدالت میں لایا جائے‘‘ جیواور جنگ کے مالک کی عدالت میں عدم حاضری پر چیف جسٹس نے دھماکہ خیز حکم جاری کر دیا،

datetime 18  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جیواورجنگ کے ملازمین کوتنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ، میر شکیل بیمار ہیں تو انہیں سٹریچر پر عدالت لایا جائے، نجی ٹی وی اور اخبار کے مالک کی عدم حاضری پر اظہار برہمی، چیف جسٹس نے حکم جاری کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جیواورجنگ کے ملازمین کوتنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت میں طلب کئے جانے کے باوجود نجی ٹی وی اور اخبار کے مالک میر شکیل الرحمن کی عدم حاضری پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وکیل جیو نیوز سے استفسار کیا کہ میر شکیل الرحمان کہاں وہ پیش کیوں نہیں ہو رہے ؟جس پر وکیل جیوز نے بتایا کہ میرشکیل کے بیٹے میر ابراہیم موجود ہیں جو سی ای او ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کون ہیں؟۔اس پر جیو ٹی وی کے سی ای او نے جواب دیا کہ میرانام میر ابراہیم ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کو نہیں جانتا ۔نمائندہ جیو ٹی وی نے بتایا کہ میر شکیل بیمار ہیں،اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میر شکیل بیمار ہیں تو انہیں سٹریچر پر عدالت لایا جائے ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میر شکیل کا تکبر اتنا ہے وہ عدالت میں پیش نہیں ہوتے،میر شکیل نے عدالت کے باہر کہا عدالتی آرڈر بے ہودہ ہے۔ان کی وجہ سےتیسری مرتبہ سماعت ملتوی کی جا رہی ہے ،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میر شکیل پیش ہو کر وضاحت کریں کیوں سٹاف کو تنخواہ نہیں دی،عدالت نے میر شکیل کو پیر کو دوبارہ طلب کر لیاہے۔واضح رہے کہ جیو نیوز کے معروف صحافی حامد میر کی شکایت پر چیف جسٹس نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر اس سے قبل بھی میر شکیل الرحمان کو عدالت میں طلب کیا تھا تاہم وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…