پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شام پر حملہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی غنڈہ گردی ہے،روس شدید مشتعل، دھماکہ خیز جوابی اقدام کا اعلان کردیا

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

ماسکو/نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس کے حلیف ملک شام پر حملے کی سخت ترین طریقے سے مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن کی پیغام پڑھا ہے جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایاہے کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔

روسی سرکاری ٹیلی ویڑن کے مطابق صدر پوتن نے اس حملے کو جارحیت قرار دیا۔ انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔ادھر اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نبینزیا نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے صدر ولادمیر پوتن کی پیغام پڑھا جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے داراحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے وہ دوما جائیں گے۔وسیلی نبینزیا نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان ممالک نے عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔دریں اثناء شام پر امریکی حملے کے خلاف سلامتی کونسل میں روس کی قرار داد منظور نہ ہوسکی۔ادھر فرانس امریکہ اوربرطانیہ نے نئی قراردادپیش کردی ہے جس میں عالمی ادارے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شام کے محصور علاقوں تک فوری امدادی کی رسائی کو یقینی بنایا جائے،میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس روس کی درخواست پر ہنگامی طور پر طلب کیا گیا جس میں شام پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے کے معاملے پر بحث ہوئی، روس نے حملے کے خلاف قرارداد پیش کی جو تین کے مقابلے میں 8 ووٹ سے مسترد ہوگئی،

روس، چین اور بولیویا نے قرارداد کے حق جب کہ چار ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔روسی سفیر کا موقف تھا کہ شام پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملے سے خطے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ شام کے مسئلے کا حل عسکری طاقت نہیں۔دوسری جانب امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے شامی مسئلے کے حل کے لیے ہمیشہ سفارت کاری پر زور دیا لیکن شام کی تازہ صورت حال پر بات چیت کا وقت کل رات ہی ختم ہوگیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام پر حملہ انسانیت کے خلاف مظالم پر کیا گیا، امریکا شام کی حکومت کو کیمیائی حملے کرنے نہیں دے گا۔امریکی سفیر نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل شام میں کیمیائی حملے روکنے میں ناکام رہی ہے اور اس کی ناکامی کا ذمہ دار روس ہے، میری صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات ہوئی ہے اگر شامی حکومت نے اپنے شہریوں پر پھر کیمیائی حملہ کیا تو امریکا شام کے خلاف دوبارہ کارروائی کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…