پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

روینہ ٹنڈن کا اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

ممبئی (این این آئی)بولی وڈ اداکارہ روینا ٹنڈن نے کہا ہے کہ عوامی شخصیات ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر کبھی بھی کسی وقت بھی کھلے عام تنقید کی جاسکتی ہے۔ماضی کی ’مست مست گرل‘ کے مطابق عوامی شخصیت کو ہر وقت اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔1990 کی مقبول ترین بولی وڈ ہیروئنز میں شمار ہونے والی روینا ٹنڈن نے یہ بات اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہی۔

انہوں نے یہ ٹوئیٹ اس وقت کی جب انہیں ٹوئٹر پر تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔43 سالہ اداکارہ کو اس وقت ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے 7 اپریل کو اپنے بیٹے کی جانب سے ’سوئمنگ‘ میں 3 گولڈ میڈل اور ایک برونز میڈل جیتنے کی خوشی کا اظہار کیا۔روینہ ٹنڈن نے 7 اپریل کو اپنے 12 سالہ بیٹے رنبیر تھدانی کی جانب سے جیتے جانے والے 3 گولڈ میڈلز اور ایک برونز میڈل کے ساتھ انہیں ملنے والے سرٹیفکیٹ کی تصویر شیئر کی۔اداکارہ کی جانب سے کی جانے والی ٹوئیٹ کے بعد انہیں کئی افراد نے تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ میڈلز اور سرٹیفکیٹ پیسوں سے خریدے گئے ہیں۔اداکارہ نے خود پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے انہیں بے وقوف قرار دیا اور لکھا کہ منفی سوچ چھوڑ کرمثبت انداز میں آگے بڑھنا چاہیے۔اداکارہ نے ایسے لوگوں کو فرسٹریشن کا شکار بھی قرار دیا۔تاہم کئی افراد نے اداکارہ کو بیٹے کی کامیابی پر مبارکباد بھی پیش کی اور انہیں تجویز دی کہ تنقید کرنے والوں کو جواب دینے کی ضرورت نہیں۔روینہ ٹنڈن نے خود پر مسلسل تنقید ہونے پر سلسلہ وار ٹوئیٹ کیں اور انہوں نے گزشتہ روز ایک ٹوئیٹ کی، جس میں انہوں نے لکھا کہ ’عوامی شخصیات تنقید کے لیے کھلی ہوتی ہیں، انہیں کوئی بھی تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے-تاہم اداکارہ نے اپنی ٹوئیٹ میں یہ بھی کہا ٹوئٹر پر صرف عوامی شخصیات کو ٹرول کیا جاتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…