بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

چہرے پر بھنویں کیوں؟ سائنسدان آخرکار جاننے میں کامیاب

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

برطانیہ (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کے خیال میں چہرے پر موجود بھنویں کس کام آتی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب سائنسدان طویل عرصے جاننے کی کوشش کررہے تھے اور آخرکار انہوں نے اسے ‘جان’ ہی لیا۔ برطانیہ کی یارک یونیورسٹی کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ موجودہ عہد کے انسان ہوسکتا ہے کہ قدیم دور کے لوگوں کی طرح انوکھے انداز سے بھنوؤں کو اٹھا نہیں سکتے مگر اس کی جگہ ہمیں ہموار چہرہ اور جذبات ظاہر کرنے والی پیشانی ضرور مل گئی ہے۔

انسانی جسم کا یہ راز جانتے ہیں؟ برطانوی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محققین کا ماننا ہے کہ ابتدائی انسان کے چہرے پر بھنوﺅں کا مقام بہت چوڑا تھا جو کہ جسمانی بالادستی کی علامت سمجھا جاسکتا ہے، جیسے جیسے انسانی چہرہ ارتقائی مراحل سے گزر کر چھوٹا اور سپاٹ ہوا، تو یہ ایسا کینوس بن گیا، جس میں بھنویں مختلف النوع جذبات کا اظہار کرسکتی ہیں۔ محقق پال او ہیگنس نے کہا ‘ہم نے بالادستی یا جارحیت کی جگہ مختلف النوع جذبات کا اظہار کو اپنالیا، جیسے جیسے چہرے چھوٹے ہوئے، پیشانی بڑی ہوتی گئی، چہرے کے مسل بھنوؤں کو اوپر نیچے حرکت دینے لگے اور ہم اپنے تمام لطیف جذبات کا اظہار ان کے ذریعے کرنے لگے’۔ انسانی جسم میں ڈی این اے کی لمبائی کتنی؟ تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کا نتیجہ فی الحال قیاسی ہے تاہم اگر یہ درست ثابت ہوا تو چھوٹے، سپاٹ چہرے کا ارتقاءبھنوﺅں کی سماجی طاقت کو ثابت کرے گا، جس نے انسانوں کو زیادہ پیچیدہ اور لطیف طریقے سے رابطے کا موقع دیا۔ تحقیق کے مطابق ہم اس مقام سے آگے بڑھ چکے ہیں جب ہم ایک دوسرے سے مسابقت چاہتے تھے اور اپنے فائدے کے لیے زیادہ جارحیت پسند نظر آنا چاہتے تھے، اب ہم اس مقام پر ہیں جہاں ہم لوگوں کے ساتھ تعلق میں بہتر نظر آنا چاہتے ہیں اور بھنوﺅں کی ایک حرکت سے لوگوں کے جذبات کو بھانپتے ہیں اور ہمدردی کرتے ہیں یا دیگر جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ سائنسدان یہ جاننا چاہتے تھے کہ قدیم انسانوں میں بھنوﺅں کا مقام اتنا زیادہ نمایاں کیوں تھا۔

ماضی میں خیال کیا جاتا تھا اس کی وجہ چہرے اور دماغی خانے کے درمیان خلاءکو بھرنا تھا، جبکہ کچھ حلقے اصرار کرتے تھے کہ اس کی وجہ کھانا چبانے کے دباﺅ سے چہرے کو بچانا تھا۔ انسانی جلد کے 11 حیرت انگیز حقائق حقیقت جاننے کے لیے موجودہ تحقیق میں 3 لاکھ سے 1 لاکھ 25 سال پہلے زیمبیا میں رہنے والے انسانی نسل کی ایک کھوپڑی کا تھری ڈی ایکس رے اسکین کیا گیا، پھر کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے ورچوئل کھوپڑی پر مختلف تجربات کیے گئے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ بھنوﺅں کے مقام کا چوڑا پن چہرے اور دماغی خانے کے درمیان خلاءکو بھرنے کے حوالے سے کافی بڑا تھا جبکہ اس کا غذا چبانے سے پیدا ہونے والے تناﺅ سے بھی کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ محققین کے مطابق آخر میں ہم نے نتیجہ نکالا کہ اس کی وجہ سماجی رویوں میں چھپی ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ کن عناصر کے نتیجے میں انسانی چہرہ وقت کے ساتھ چھوٹا، بھنوﺅں کی جگہ تنگ اور پیشانی چوڑی ہوئی، مگر یہ ساخت انسانی رابطوں کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہوئی۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولیشن میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…