اتوار‬‮ ، 02 اگست‬‮ 2026 

لاعلاج مرض کا ‘علاج’ آخرکار ڈھونڈ لیا گیا

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) دماغ کو بری طرح متاثر کرنے والے مرض الزائمر کو لاعلاج سمجھا جاتا ہے تاہم اب سائنسدانوں نے اس پر قابو پانے کے حوالے سے بڑا دعویٰ اس وقت کیا جب انہوں نے پہلی مرتبہ اس بیماری کا باعث بننے والے اہم ترین جین کو بے اثر کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ گلیڈاسٹون انسٹیٹوٹ کی تحقیقی ٹیم نے اس پروٹین کو شناخت کرنے میں کامیابی حاصل کی جو apoE4 نامی جین سے جڑا ہوتا ہے جو الزائمر کا باعث بنتا ہے۔

سائنسدانوں نے اس کی تشخیص کے ساتھ ساتھ انسانی عصبی خلیات کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام میں کامیابی حاصل کی۔ تحقیقی ٹیم کے مطابق اس کامیابی سے ایسی موثر دوا تیار کرنے میں مدد ملے گی جو اس لاعلاج مرض کی روک تھام کرسکے گا۔ تاہم محققین کا کہنا تھا کہ فی الحال یہ کمپاﺅنڈ صرف لیبارٹری میں انسانی دماغی خلیات پر آزمایا گیا ہے اور اس کی عملی آزمائش نہیں ہوئی۔ apoE4 نامی جین الزائمر کا خطرہ دوگنا سے زیادہ بڑھا دیتا ہے جبکہ اس کی 2 کاپیاں یہ خطرہ 12 گنا بڑھا دیتی ہیں۔ ماضی میں ہونے والی تحقیقی رپورٹس میں عندیہ دیا گیا تھا کہ ہر 4 میں سے ایک شخص میں یہ جین موجود ہوتا ہے۔ انسانی نیورونز اس جین کی بدولت افعال معمول کے مطابق سرانجام نہیں دے پاتے اور الزائمر کا باعث بننے والے اجزا بننے لگتے ہیں۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ یہ جین واقعی الزائمر کا باعث بنتا ہے یا نہیں۔ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے الزائمر کے شکار افراد کے جلدی خلیات سے نیورونز بنائے گئے، پھر ان کا موازنہ ایسے خلیات سے کیا گیا جو apoE4 نہیں بنارہے تھے، اور معلوم ہوا کہ اس کی نہ ہونے کے برابر موجودگی بھی دماغ کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد محققین نے جینیاتی اسٹرکچر ٹھیک کرنے والے ٹول کا استعمال کرکے الزائمر کی علامات کو ختم کردیا۔ اب یہ سائنسدان ادویات ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ اس کمپاﺅنڈ کو بہتر بناکر مریضوں پر اس کی آزمائش کی جائے۔

یہ تجربہ بہت زیادہ اہم اس لیے بھی ہے کیونکہ یہ انسانی خلیات پر کیا جارہا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ الزائمر امراض کے حوالے سے دوا کی تیاری میں گزشتہ 10 برسوں میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، کچھ ادویات جانوروں پر تجربات کے دوران تو کام کرتی ہیں مگر انسانی آزمائشوں میں ناکام ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے چوہوں پر تجربات کی بجائے براہ راست انسانی دماغی خلیات پر کام کیا اور اس لاعلاج بیماری کا موثر توڑ ڈھونڈ نکالا، تاہم حتمی فیصلہ مریضوں پر اس کی آزمائش کے بعد ہوگا۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے نیچر میڈیسین میں شائع ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…