جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد کے نئے ائیرپورٹ کا نام اس شخصیت کے نام پر رکھا جائے ورنہ ہم سپریم کورٹ جائینگے ،بڑی سیاسی جماعت کی حکومت کو سنگین دھمکی

datetime 9  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم چیئرمین سینیٹ کو نہیں مانتے تو وہ پارلیمنٹ کو بھی نہیں مانتے ، جب سیاستدان خود احترام نہیں کرتے تو عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو کیسے کہیں؟سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے، وزیراعظم سے نگراں حکومت کے قیام کے معاملے پر(کل) بدھ کو ملاقات ہوگی ۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم سے نگراں حکومت کے قیام کے معاملے پر بدھ کو ملاقات ہوگی ۔

ابھی تک اپوزیشن کے اتحادیوں نے نگراں وزیراعظم کے لیے کوئی نام نہیں دیا اور میرے پاس کوئی نام نہیں آیا ۔انہوں نے کہا کہ پارٹی اجلاس کے بعد نگران وزیراعظم کا نام سامنے لائیں گے، نگراں وزیراعظم پرہی آئندہ الیکشن منحصر ہوگا اس لیے کوشش ہے بہتر سے بہتر نگراں وزیراعظم لائیں، کوشش ہے مئی کے پہلے ہفتے میں باضابطہ مشاورت شروع کی جائے۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ہم نے 2013 کا الیکشن آر او الیکشن کہہ کرتسلیم کیا، 2014 میں پارلیمنٹ پر یلغارکے موقع پر ہم آگے کھڑے ہوئے۔وزیراعظم کے چیئرمین سینیٹ سے متعلق بیان پر خورشید شاہ نے کہا کہ وزیراعظم چیئرمین سینیٹ کو نہیں مانتے تو وہ پارلیمنٹ کو بھی نہیں مانتے، سیاستدانوں کو پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہیے، جب خود احترام نہیں کرتے تو عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو احترام کا کیسے کہیں، ایک دوسرے کا احترام کرکے کامیاب جمہوریت چلائی جا سکتی ہے۔قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اپنی احتساب کمیٹی بنائے، وہ سب سے بڑی کمیٹی ثابت ہوگی جو سیاستدانوں کا احتساب کریگی۔خورشید شاہ نے کہا کہ نئے اسلام آباد ائیر پورٹ کو بے نظیر کے نام سے منسوب کرنا چاہیے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو سپریم کورٹ جاؤں گا۔اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا مسلم لیگ (ن) نئی نئی روایتیں ڈالتی رہتی ہے، نواز شریف بی بی شہید کی وجہ سے 10 سال کی جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئے، ان کی شہید بی بی سے لڑائی بنتی نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…