جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت عوام کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام، چیف جسٹس نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے ، دو ٹوک اعلان کر دیا

datetime 8  اپریل‬‮  2018 |

کوئٹہ (آئی این پی )چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ جہاں بنیادی حقوق کا استحصال ہوگا وہاں عدلیہ مداخلت کرے گی، آئین کے آرٹیکل 199 اور 184 کے تحت اختیار حاصل ہے،بلوچستان کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے، صحت کے شعبے میں وفاق سے جو مدد چاہیے ہمیں بتائیں، ماضی میں کیا ہوا اس کو چھوڑیں اور دیکھیں آگے کیا کرنا ہے بدقسمتی سے ہمارے میڈیکل کالجز معیاری نہیں۔

ہمیں اپنی نسلوں کیلئے مسائل نہیں پیدا کرنے۔پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کوئٹہ رجسٹری میںہسپتالوں کی حالت زار سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بنچ میں جسٹس سجاد علی شاہ اور سید منصور علی شاہ شامل ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے میڈیکل کالجز معیاری نہیں، ہمیں اپنی نسلوں کیلئے مسائل نہیں پیدا کرنے، آئین کے آرٹیکل 199 اور 184 کے تحت اختیار حاصل ہے کہ جہاں بنیادی حقوق کا استحصال ہو عدلیہ مداخلت کرے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے، صحت کے شعبے میں وفاق سے جو مدد چاہیے ہمیں بتائیں، ماضی میں کیا ہوا اس کو چھوڑیں اور دیکھیں آگے کیا کرنا ہے، اگر سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں تو مریضوں کو کون دیکھے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…