ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

نقیب اللہ قتل کیس میں بڑی پیشرفت۔۔رائو انوار کی عدم موجودگی کا بڑا ثبوت جے آئی ٹی کو مل گیا،میرے خلاف کون سازش کر رہا ہے؟ سابق ایس ایس پی نے اپنی ہی ٹیم کے کس افسر پر سارا ملبہ ڈال دیا

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی ) نقیب اللہ قتل کیس میں گرفتار سابق ایس ایس پی ملیر را ئو انوار نے سارا ملبہ اپنی ٹیم کے ارکان پر ڈا لتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ پولیس کے کچھ افسران میرے خلاف سازش کر رہے ہیں، سہراب گوٹھ چوکی انچارج اکبر ملاح سمیت میری ٹیم کے 5 اہلکار نقیب اللہ معاملے میں ملوث ہیں ۔تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس کے سلسلے میں بنائی گئی جے آئی ٹی کا اجلاس ہوا۔

جس میں سابق ایس ایس پی ملیر بھی موجود تھے۔ راوانوار نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ سہراب گوٹھ چوکی انچارج اکبر ملاح سمیت میری ٹیم کے 5 اہلکار نقیب اللہ معاملے میں ملوث ہیں۔ سندھ پولیس کے کچھ افسران میرے خلاف سازش کر رہے ہیں۔جے آئی ٹی ٹیم نے سہراب گوٹھ میں واقع ہوٹل کا دورہ کیا اور ملازمین سے پوچھ گچھ کی۔ ملازمین نے بیان دیا کہ چوکی انچارج اکبر ملاح چند اہلکاروں کے ساتھ گاڑی میں آیا تھا، یہ اہلکار نقیب اللہ کو اپنے ساتھ گاڑی میں لے گئے، راو انوار ان کے ساتھ نہیں تھا۔ جے آئی ٹی کے ارکان شاہ لطیف ٹا ئو ن کا بھی دورہ کریں گے۔واضح رہے کہ پانچ اپریل کو نقیب اللہ قتل کیس میں نامزد معطل ایس ایس پی را ئو انوار نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے خلاف نظر ثانی کی اپیل سپریم کورٹ میں دائر کردی ہے جس میں انہوں نے جے آئی ٹی پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔را ئو انوار نے درخواست میں مقف اختیار کیا ہے کہ سندھ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد نہیں رہا۔ پولیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی توقع ناممکن ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شق 19 کو نظرانداز کیا گیا جبکہ قانون کے تحت جے آئی ٹی پولیس، خفیہ اداروں اور فوج کے نمائندوں پرمشتمل ہوتی ہے۔ یہ ایک ہی ادارے کے نمائندوں پر تشکیل نہیں دی جاسکتی۔واضح رہے کہ را انوار 21 مارچ کو اچانک سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے جہاں عدالتی حکم پر انہیں گرفتار کرکے کراچی منتقل کردیا گیا تھا۔سپریم کورٹ نے را ئو انوار سے تفتیش کیلئے ایڈیشنل آئی جی سندھ آفتاب پٹھان کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی تھی جس میں صرف پولیس افسران کو شامل کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…