پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اب آپ ہمارے فوجی اخراجات برداشت کریں، امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب سمیت عرب ممالک کو بڑا سرپرائز دیدیا،دھماکہ خیز اعلان

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب سمیت عرب ممالک ہمارے فوجی اخراجات برادشت کریں،امریکہ بغیر مفاد کے مشرق وسطی میں بھاری رقم خرچ کر رہا ہے،امریکا کے مطالبے کا مقصد امریکی ٹیکس دھندگان پر بوجھ ہلکا کرنا ہے۔ سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں امریکی فوج کی موجودگی کے اخراجات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سعودی عرب سمیت خطے کے دولت مند ملکوں کو شام میں امریکی فوج کے اخراجات برداشت کرنیہوں گیڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ مشرق وسطی میں بھاری رقم خرچ کر رہا ہے اور اس کے عوض اسے کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔انہوں نے کہا کہ خلیج فارس کے دولت مند ممالک معاملات میں شامل ہونے سے کیوں گریزاں ہیں۔امریکی صدر نے اس سے پہلے بھی بحیرہ ایٹلانٹک کے تین ملکوں کے سربراہوں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران مغربی ایشیا کے ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ شام میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے اخراجات برداشت کریں۔قابل ذکر ہیکہ سعودی عرب نے بارہا امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ شام میں دہشت گردوں کو حتمی شکست سے بچانے کے لیے، اپنے فوجیوں کو باقی رکھے۔امریکی صدر گزشتہ دنوں یہ اعلان کرچکے تھے کہ وہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کو جلد واپس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات میں بھی آل سعود حکومت سے چار ارب ڈالر کی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ البتہ اندازوں اور تخمینوں کے مطابق مغربی ایشیا میں امریکہ کی براہ راست اور بالواسطہ فوجی مداخلت کے اخراجات چار ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہیں۔ایسے ناقابل انکار شواہد موجود ہیں

جن سے پتہ چلتا ہے کہ داعش اور دیگر دہشت گرد تکفیری گروہوں کے قیام کے تمام تر اخراجات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں نے برداشت کیے ہیں، یہ سارے اخراجات شام کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے پر صرف کیے گئے۔ مگر وہ شامی حکومت کو نہیں گراسکے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی ایشیا میں فوجی مداخلت کے اخراجات اپنے علاقائی اتحادیوں سے وصول کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکی ٹیکس دھندگان پر بوجھ ہلکا کیا جاسکے۔دوسری جانب عظیم مشرق وسطی کے قیام کے لیے، سعودیوں اور صیہونیوں کا شدید رجحان امریکہ کی آمدنی کے بڑے ذریعے میں تبدیل ہوگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…