پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

گوگل امریکہ کی عسکری مدد نہ کرے: گوگل ملازمین

datetime 6  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی)معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کے ہزاروں ملازمین نے ایک کھلے خط میں کمپنی سے استدعا کی ہے کہ وہ امریکی فوج کے لیے ایک خصوصی پراجیکٹ پر کام نہ کریں۔اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ میون ہے اور اس کا مقصد آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ڈرون حملوں کے نشانے کو بہتر بنانا ہے۔ملازمین کو خدشہ ہے کہ اس سے گوگل کی ساکھ کو ناقابلِ مرمت نقصان پہنچے گا۔

گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے نام اس خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ماننا ہے کہ گوگل کو جنگ کے کاروبار میں نہیں ہونا چاہیے۔اسی لیے ہم چاہتے ہیں کہ پروجیکٹ میوں کو منسوخ کیا جائے اور گوگل واضح پالیسی کا اعلان اور اس پر عمل کرے کہ گوگل یا اس کے کوئی ٹھیکیدار جنگی ٹیکنالوجی تیار نہیں کریں گے۔درجنوں سینیئر انجینیئروں سمیت 3100 ملازمین کے دستخط والے اس خط کے بارے میں نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ سٹاف پہلے ہی مینجمنٹ سے اس بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔ دنیا بھر میں گوگل کے 88000 ملازمین ہیں۔گوگل کی کلاؤڈ بزنس کی سربراہ ڈائیں گرین نے اس خدشات کے ردِعمل میں ملازمین کو یقین دلایا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی پتھیار لانچ کرنے میں استعمال نہیں ہوگی اور نہ ہی ڈرون چلانے یا اڑانے میں استعمال ہوگی۔مگر اس خط پر دستخط کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کے اعتماد کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور اپنی اخلاقی ذمہ داری کو نظر انداز کر رہا ہے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ہم اپنی اخلاقی ذمہ داری کسی تیسری پارٹی پر نہیں ڈال سکتے۔۔۔ گوگل کے ظاہر کردہ عقائد میں واضح کیا گیا ہے کہ ہمارا ہر صارف ہم پر اعتماد کر رہا ہے، اس کو کبھی بھی خطرے میں نہ ڈالیں، کبھی نہیں!’اس ٹیکنالوجی کو بنانا جو کہ امریکی حکومت کو عسکری نگرانی میں مدد کرے اور جس کے جالیوا نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، نامنظور ہے۔

گوگل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکی محکمہِ دفاع کو اپنی امیج ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے دے رہا ہے۔گوگل کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پروجیکٹ میون وزارتِ دفاع کا ایک معروف منصوبہ ہے اور گوگل اس کے ایک حصے پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد غیر جارحانہ چیزوں کے لیے استعمال ہے اور یہ کسی بھی گوگل کلاؤڈ کے صارف کو میسر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…