بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

چین نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے 87ہزار سے زائد ڈیم ،بھارت نے 3200 ڈیم تعمیر کئے اورپاکستان نے اب تک کتنے ڈیم تعمیر کئے؟انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی )فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر غضنفر بلور نے کہاہے کہ آئی ایم ایف کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا اب تیسرا نمبر ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے مناسب انتظامات نہ کئے گئے تو آنے والے وقتوں میں پاکستان کی معیشت پر اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے زرعی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پانی پر زیادہ انحصار کر رہی ہے ۔

غضنفر بلور نے کہا کہ واپڈا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت کو ہر سال پانی کے ضائع جانے کی وجہ سے 25ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ پاکستان کے دریا ہر سال 145ملین ایکٹر فٹ پانی حاصل کرتے ہیں جس میں سے صرف 14ملین ایکٹر فٹ پانی کو ذخیرہ کیا جاتا ہے جبکہ باقی سب پانی ضائع جاتا ہے۔ 1951میں پاکستان میں پانی کی فی کس دستیابی 5260کیوبک میٹر جو 2015تک کم ہو کر 940کیوبک میٹر تک آ گئی تھی اور اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے انتظامات نہ کئے گئے تو 2025تک پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی مزید کم ہوکر صرف860کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گی جس کے معیشت اور عوام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ پچھلے 70سال میں ملک میں صرف دو بڑے ڈیم تعمیر کئے گئے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں ہماری گذشتہ حکومتیں کتنی غافل رہی ہیں انہوں نے کہا کہ چین نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے بڑے 87ہزار سے زائد ڈیم تعمیر کئے ہوئے ہیں جبکہ انڈیا نے تقریبا 3200 ڈیم تعمیر کئے ہوئے ہیں لیکن پاکستان نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے 15میٹر تک بلند صرف 150ڈیم تعمیر کئے ہیں جو مطلوبہ ضرورت سے بہت ہی کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ زیر زمین پانی کی سطح بھی اب تیزی سے نیچے جا رہی ہے اور اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے ذخائر جلد تعمیر نہ کئے گئے تو مستقبل میں پاکستان کی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…