پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

افغان ایک بڑی فوج چاہتے تھے جو پاکستان کا سامنا کرسکے، امریکہ اب تک افغان فوج پر70ارب ڈالر خرچ کرچکاہے،خفیہ امریکی رپورٹ منظر عام پر آگئی،چونکادینے والے انکشافات

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی) امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان نہیں بلکہ گروپوں کی لڑائی ہے ،ادھرافغانستان کی بحالی پر مامور امریکا کے خصوصی انسپکٹر جنرل سیگار نے کانگریس کو اپنی پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 16سال کی سخت محنت اور 70 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکا افغان فورسز کو مکمل باصلاحیت بنانے میں ناکام رہا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کی بحالی پر مامور امریکا کے خصوصی انسپکٹر

جنرل سیگار نے کانگریس کو اپنی پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا کہ افغانستان کی بری فورسز اب فضائی مدد چاہتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے افغان ایئرفورس کے لیے یہ ضروری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے اور ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو دوبارہ بنانے سے روکنے کے لیے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز ( اے این ڈی ایس ایف) کو مکمل باصلاحیت بنانا بھی امریکی قومی سلامتی کا مقصد تھا۔کانگریس کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2002 کے بعد سے اے این ڈی ایس ایف پر امریکی حکومت کے 70 ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد خرچ کرنے، ان کی تربیت، مشاورت اور معاونت کرنے کے باوجود افغان فورسز اپنی ہی قوم کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہوسکیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی اور افغان حکام میں افغانستان میں قومی فوج کی نوعیت اور دائرہ کار پر شروع سے ہی اختلاف تھا اور افغان ایک بڑی فوج چاہتے تھے جو پاکستان کا سامنا کرسکے، تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان نہیں بلکہ گروپوں کی لڑائی ہے۔اس حوالے سے امریکی محکمہ دفاع کے ایک اور سینئرعہدیدار میرن استرمیکی نے خبردار کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دشمن مضبوط ہے بلکہ افغان حکومت بہت کمزور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…