ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

15پر جعلی کال کرنے سے پہلے یہ تحریر ضرور پڑھیں،عوام کی ان حرکتوں سے ضرورت مندوں پر کیا گزرتی ہے؟

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی) وفاقی حکام نے سندھ پولیس کو موبائل فون کمپنیوں اور نادرا کے تعاون سے دھوکا دہی پر مبنی کال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈان کرنے کی اجازت دے دی۔حکام کے مطابق سندھ پولیس نے متعلقہ اداروں سے درخواست کی تھی کہ پولیس ہیلپ لائن 15 پر جعلی کال کرنے والوں کی معلومات تک مکمل رسائی کی اجازت دی جائے۔وفاقی اداروں اور سندھ پولیس کے مابین متعدد اجلاس ہوئے جن میں کراچی پولیس نے موقف اختیار کیا کہ جعلی کالز کی وجہ سے بہت پریشانی ہوتی ہے۔

اور وقت کے ساتھ پولیس اسٹیشن کے دیگر امور متاثر ہوتے ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ ہیلپ لائن 15 پر جعلی کال کرنے والوں کی وجہ سے ضرورت مند افراد مدد سے محروم ہوجاتے ہیں۔اس حوالے سے کہا گیا کہ ہیلپ سینٹر پر ہرکال ریکارڈ ہوتی اور موبائل فون بھی ٹریس ہوجاتا ہے لیکن جعلی کال کرنے والے کی ذاتی معلومات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے محض موبائل فون نمبر سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے وزارت داخلہ سے درخواست کی تھی کہ جعلی کالرز کی ذاتی معلومات بشمول نام، جنس اور پتہ تک رسائی دی جائے اور متعلقہ وزارت نے اجازت تفویض کردی ہے۔واضح رہے کہ کراچی پولیس نے گزشتہ برس مددگار ہیلپ لائن 15 کو نجی ادارے کے حوالے کیا تاکہ عوام کی شکایتوں کا فوری ازالہ بھرپور انداز میں کیا جا سکے جس کا دوسرا مقصد پولیس اور شہری کے درمیان فاصلے کو کم کرنا بھی ہے۔پولیس کا یقین ہے کہ ایسے اقدامات سے شہر میں اسٹریٹ کرائم کے خلاف موثر کارروائیاں کرکے عوام کا پولیس پر اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ مددگار 15 سینٹرز میں سنگین نوعیت کی بے قاعدگیوں کے بعد ایسے نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے سے متعلق کئی مہینے مشاورتی عمل جاری رہا تھا۔حکام نے بتایا کہ نجی کمپنی کے حوالے کرنے کے باوجود جعلی کالز بڑا چیلنج ثابت ہوا کیونکہ سینٹرز پر 90 فیصد کالز جعلی ہوتی ہیں۔اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ 2015 میں 10 لاکھ 50 ہزار سے زائد جعلی کالز موصول ہوئی جس کے باعث دونوں وسائل اور وقت برباد ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…