بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

کہکشاں کے وسط میں ایک درجن بلیک ہولز دریافت

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)سائنس دانوں نے کہاہے کہ ہماری کہکشاں کے بیچ میں ممکنہ طور پر ایک درجن بلیک ہولز موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس نئی تحقیق نے کئی دہائی پرانی پیش گوئی کی توثیق کی ہے جس کے مطابق یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے جس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بلیک ہولز ہیں۔اس سے قبل اس قسم کے شواہد نہیں ملے تھے کہ کہکشاں کے بیچ میں بہت بڑے بلیک ہول موجو ہے۔

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے چارلز ہیلی اور ان کے رفقا نے امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ٹیلی سکوپ چندرا ایکس رے کے آرکائیو ڈیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا پر تحقیق کی۔ان کی رپورٹ کے مطابق ایک درجن غیر فعال بائینری سسٹمز دریافت ہوئے ہیں جن میں ستارے نہ نظر آنے والے ساتھی ( بلیک ہول) کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں سی جیٹیریئس اے نامی بہت بڑا بلیک ہول ہے جس کے ارد گرد گیس اور غبار ہے جو بڑے ستاروں کے پنپنے کی بہترین جگہ ہے۔ یہ ستارے وہیں رہتے ہیں، وہیں مرتے ہیں اور بلیک ہولز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی کہا گیاکہ اس گیس اور دھول کے ہالے سے باہر بلیک ہولز جیسے جیسے اپنی توانائی کھوتے ہیں وہ سیجیٹیریئس اے کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ماضی میں بلیک ہولز کو تلاش کرنے کی کوشش میں ایکس رے شعاعوں کی تیز روشنی پر انحصار کیا گیا تھا جو بائینری سسٹمز سے خارج ہوتی ہیں۔پرفیسر ہیلی کا کہنا تھا کہ کہکشاں کا وسط کرہ ارض سے اتنا دور ہے کہ تیز روشنی 100 سے ایک ہزار سال میں ایک بار دیکھی جا سکتی ہے۔اسی لیے کولمبیا یونورسٹی کی ٹیم نے کم روشن ایکسرے شعاعوں کو دیکھنا شروع کیا جو اس وقت خارج کی جاتی ہیں جب بائینری سسٹم غیر فعال ہوتا ہے۔سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیجیٹیریئس اے کے ارد گرد 300 سے 500 بائنریز اور دس ہزار کم کمیت کے بلیک ہولز موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…