پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

کہکشاں کے وسط میں ایک درجن بلیک ہولز دریافت

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)سائنس دانوں نے کہاہے کہ ہماری کہکشاں کے بیچ میں ممکنہ طور پر ایک درجن بلیک ہولز موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس نئی تحقیق نے کئی دہائی پرانی پیش گوئی کی توثیق کی ہے جس کے مطابق یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے جس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بلیک ہولز ہیں۔اس سے قبل اس قسم کے شواہد نہیں ملے تھے کہ کہکشاں کے بیچ میں بہت بڑے بلیک ہول موجو ہے۔

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے چارلز ہیلی اور ان کے رفقا نے امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی ٹیلی سکوپ چندرا ایکس رے کے آرکائیو ڈیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا پر تحقیق کی۔ان کی رپورٹ کے مطابق ایک درجن غیر فعال بائینری سسٹمز دریافت ہوئے ہیں جن میں ستارے نہ نظر آنے والے ساتھی ( بلیک ہول) کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں سی جیٹیریئس اے نامی بہت بڑا بلیک ہول ہے جس کے ارد گرد گیس اور غبار ہے جو بڑے ستاروں کے پنپنے کی بہترین جگہ ہے۔ یہ ستارے وہیں رہتے ہیں، وہیں مرتے ہیں اور بلیک ہولز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی کہا گیاکہ اس گیس اور دھول کے ہالے سے باہر بلیک ہولز جیسے جیسے اپنی توانائی کھوتے ہیں وہ سیجیٹیریئس اے کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ماضی میں بلیک ہولز کو تلاش کرنے کی کوشش میں ایکس رے شعاعوں کی تیز روشنی پر انحصار کیا گیا تھا جو بائینری سسٹمز سے خارج ہوتی ہیں۔پرفیسر ہیلی کا کہنا تھا کہ کہکشاں کا وسط کرہ ارض سے اتنا دور ہے کہ تیز روشنی 100 سے ایک ہزار سال میں ایک بار دیکھی جا سکتی ہے۔اسی لیے کولمبیا یونورسٹی کی ٹیم نے کم روشن ایکسرے شعاعوں کو دیکھنا شروع کیا جو اس وقت خارج کی جاتی ہیں جب بائینری سسٹم غیر فعال ہوتا ہے۔سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیجیٹیریئس اے کے ارد گرد 300 سے 500 بائنریز اور دس ہزار کم کمیت کے بلیک ہولز موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…