ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’وزیراعظم کو چیئرمین سینٹ کیخلاف بیان دینا گلے پڑ گیا ‘‘ کتنے رکن قومی اسمبلی نے ایک ساتھ ’ن لیگ‘ چھوڑ دی ؟معاملہ گھمبیر ہو گیا

datetime 2  اپریل‬‮  2018 |

کوئٹہ ( آن لائن ) بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین وپاکستان پرست رہنماء نوابزادہ میر سراج رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تین اراکین قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سے متعلق وزیراعظم کی بیان پر مسلم لیگ(ن) کی رکنیت سے مستعفی ہونے پر خوشی کا اظہا رکر تے ہوئے کہا ہے کہ تینوں اراکین اسمبلی نے بلوچستان کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جو فیصلہ کیا ہے یہ خوش آئند اقدام ہے کیونکہ بلوچستان کے عوام محب وطن اور اصولوں پر ڈٹے ہو تے ہیں

ان خیالات کا اظہا رانہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نوابزادہ خالدمگسی ، سردار زادہ دوستین ڈومکی اور جام کمال نے قومی اسمبلی مسلم لیگ(ن) کی رکنیت سے استعفیٰ دے کر پاکستان اور بلوچستان دوستی کا ثبوت پیش کیا اور ہم اس فیصلے کو خراج عقیدت پیش کر تے ہیں شاہد اور بھی پارٹیاں اس اقدام کو سراہتے ہوئے مسلم لیگ(ن) کے خلاف میدان عمل میں آجائے اور ملک کے بڑے بڑے سیاستدانوں کو یہ معلوم ہونا چا ہئے کہ جو لوگ پاکستان کی بات کر تے ہیں ان کے خلاف اس طرح نہیں بولنا چا ہئے بلوچستان کے عوام محب وطن ہے اور ہمیشہ ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں وزیراعظم اور نوازشریف نے چیئرمین سینیٹ کے بارے میں جو نا زیبا الفاظ استعمال کئے ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے بلوچستان کے عوام محب وطن ہے اور اصولوں پر ڈٹے ہو تے ہیں اور وہ اصولوں کی خاطر ہر عہدے کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے مفادات کے خلاف جو بھی بولے گا اس کے خلاف ہمیں ڈٹ کر بولنا ہو گا اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور نوازشریف دونوں بلوچستان کے عوا م سے معافی مانگیں اور و زیراعظم اپنے زبان لگام دیں ایسا نہ ہوں کہ اگرہم نکلے تو پھر اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…