ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اہم ترین عہدے پر تعینات خاتون افسرتعلیمی اسناد جعلی ثابت ہونے پرملازمت سے برطرف، نوٹیفکیشن جاری،برطرف خاتون نے اعلیٰ حکام پر جنسی طورپر ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 31  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کی ڈپٹی ڈائریکٹر مس رضوانہ کوثر کی تعلیمی اسناد جعلی ثابت ہونے پر انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا جبکہ برطرف ہونے والی رضوانہ کوثر نے چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایچ اے جمیل احمد خان اور آصف نوید پر حراساں کرنے سمیت دیگر سنگین الزامات عائد کر کے تھانہ سیکرٹریٹ میں ایف آئی آر درج کرا دی۔پی ایچ اے کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے

مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر رضوانہ کوثر کے خلاف تعلیمی اسناد جعلی ہونے کی انکوائری کی گئی اوردسمبر 2017میں خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر کی ایم اے اور بی اے کی اسناد ہائر ایجوکیشن کمیشن کو تصدیق کیلئے بھجوائی گئیں، ایچ ای سی نے ان ڈگریوں کو جعلی قراردے دیا، جس پر خاتون افسر کو شوکاز نوٹس دیا گیا اور شو کاز نوٹس میں بھی انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا،جس کے بعد انکوائری افسر نے 15جنوری کو رضوانہ کوثر کا موقف سنا تاہم وہ اپنی تعلیمی اسناد کا دفاع نہیں کر پائیں، نوٹیفکیشن کے مطابق مجموعی طور پر 91دن دینے کے باوجود رضوانہ کوثر اپنی ڈگریوں کو اصل ثابت نہ کر سکیں جس پر انکوائری افسر کی سفارشات کی روشنی میں چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایچ اے جمیل احمد خان نے رضوانہ کوثر کو سول سروسز رولز کی روشنی میں ملازمت سے برطرف کر دیاتاہم نوٹیفکیشن میں

متاثرہ خاتون افسر کو اپنی برطرفی کے خلاف ایپلٹ اتھارٹی کو اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔دوسری طرف نوکری سے برطرفی کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی رضوانہ کوثر نے تھانہ سیکرٹریٹ میں ایک درخواست دائر کی کہ انہیں پی ایچ اے کے افسر آصف نوید اور سی ای او پی ایچ اے جمیل احمد نے ان سے بدتمیزی کرتے ہوئے انہیں جنسی طور پر حراساں کرنے کی کوشش کی۔ تھانہ سیکرٹریٹ پولیس نے مس رضوانہ کوثر کی مدعیت میں پی ایچ اے کے چیف ایگزیکٹو افسر جمیل احمد اور آصف نوید کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…