جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

جی سی یونیورسٹی طالبہ زیادتی و قتل کیس میں بڑی پیشرفت، واردات کا عینی شاہد رکشہ ڈرائیور سامنے آگیا، تہلکہ خیز انکشافات پنجاب پولیس 4روز تک کیا کرتی رہی،بھائی نے گھنائوناکردار بے نقاب کر دیا

datetime 30  مارچ‬‮  2018 |

فیصل آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی ہےجس میں انکشاف ہوا ہے کہ مقتولہ کو زیادتی کا نشانہ بنائے جانے بعد قتل کیا گیا ہے ۔ نجی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد کے علاقے ڈجکوٹ میں سیم نالے کے قریب سے ایک خاتون کی لاش ملی تھی جس کو پولیس نےشناخت کے بعد پورسٹمارٹم کیلئے بجھوایا تھاخاتون کی

شناخت جی سی یونیورسٹی کی طالبہ عابدہ کے نام سے ہوئی تھی ۔پولیس کے مطابق پوسٹمارٹم کی رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ طالبہ کو پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا یا گیا بعد میں اسے قتل کر نے کے بعد لاش کو سیم نالے کےقریب پھینک دیا گیا تھا ۔ شواہد کی روشنی میں ملزمان کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔دریں اثنا جی سی یونیورسٹی کی لاش گزشتہ روز ڈجکوٹ کی سیم نہر سے ملی تھی، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ عابدہ احمد کی موت گلہ دبانے سے ہوئی۔ عابدہ احمد کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ تھانے کے چکر کاٹے لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔لڑکی کے والد نے اپنی درخواست میں کہا کہ ایک سفید رنگ کی کرولا کار میں چار نامعلوم مسلح افراد جن کو سامنے آنے پر گواہان شناخت کر سکتے ہیں وہاں آئے اور میری بیٹی کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے زبردستی گن پوائنٹ پر کار میں سوار کر لیا اور اغوا کرکے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے جو کہ وہاں سے گزرتے افراد عبدالغفار ولد عبدالحق اور محمد انور ولد عبدالحمید نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، رات کو جب میری بیٹی گھر نہ پہنچی تو تلاش کرتے ہوئے پوچھ گچھ کے دوران وہاں سے گزرا تو وہاں موجود ایک رکشے والے عبدالغفار ولد عبدالحق نے بتایا کہ وہ چار بجے کے قریب وہاں سے ایک سواری محمد انور

ولد عبدالحمید کو لے کر جانے لگا تو اس نے یہ وقوعہ دیکھ لیا، میری بیٹی کو نامعلوم افراد نے حرام کاری و جان سے مار دینے کی نیت سے اغوا کرکے زیادتی کی ہے، میری بیٹی کی زندگی شدید خطرے میں ہے فی الفور مقدمہ درج کرکے میری بیٹی کو برآمد کرکے اس کی جان بچائی جائے اور ملزمان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ لیکن بیس سالہ طالبہ کے والد کی درخواست کے باوجود کچھ نہ کیا گیا،

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے فیصل آباد میں 20سالہ طالبہ کے اغواکے بعد قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او فیصل آباد سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔وزیراعلی نے کہاکہ طالبہ پر ظلم ڈھانے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔وزیراعلی نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ملزمو ں کو جلد ازجلد قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے ۔ہمارے خصوصی نمائندے بات کرتے ہوئے

مقتول طالبہ کے بھائی ندیم احمد نے بتایا کہ سی پی او اطہر اسماعیل نے ملزمان کو جلد پکڑنے کی یقین دہانی کروائی ہے جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی تعزیت کیلئے آئے تھے اور انہوں نے بھی انصاف فراہم کرنے کے حوالے سے تسلیاں دی ہیں تاہم پولیس اگر بروقت کارروائی کرتی تو نہ صرف میری بہن کی عزت لٹنے سے بچ جاتی بلکہ اس کی جان بھی بچ سکتی تھی

مگر پولیس کی عدم دلچسپی اور روایتی سستی کے باعث یہ وقوعہ پیش آیا۔ ندیم احمد نے بتایا کہ پولیس نے ابتدائی تفتیش میں میری بہن کے موبائل ڈیٹا حاصل کر لیا ہے جس میں کال ڈیٹیل سے کچھ نمبروں کا پتہ چلا ہے یہ نمبر میری مقتولہ بہن کی کلاس میٹس کے ہیں مگر ان کے نام نہیں۔ ایک نمبر جو کہ میری بہن کی کلاس فیلو استعمال کر رہی تھی جو کہ اس کے نام پر نہیں بلکہ ایک لڑکے کے

نام پر تھا اس کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔ ندیم احمد اس موقع پر انتہائی دکھی دکھائی دئیے ۔بہن کے اندوہناک قتل کی اس واردات نے متاثرہ خاندان کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…