اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی وہ واحد خاتون جس کی تصویر پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور یو اے ای کے حاکم محمد بن زید کی لڑائی ہو گئی، اس تصویر کی بولی پر دونوں نے کتنے ارب ڈالرز لگا دیے، یہ جان کر آپ کو مسلم حکمرانوں کے زوال کی اصل وجہ معلوم ہو جائے گی

datetime 29  مارچ‬‮  2018 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر خبریں آتی ہیں کہ فلاں عرب شہزادے نے کروڑوں روپے فلاں چیز پر لٹا دیے، اس طرح کی خبریں اکثر سننے میں آتی رہتی ہیں، میل آن لائن کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں معروف مصور لیونارڈوڈاؤنچی کی ایک پینٹنگ 40کروڑ 53لاکھ ڈالر (تقریباً 52 ارب 75 کروڑ روپے) میں فروخت ہوئی۔ ابتدائی طور پر اس کے خریدار کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا تھا

لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس پینٹنگ کا خریدار کوئی اور نہیں بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان تھے، اب بولی میں اس پینٹنگ کی اتنی زیادہ قیمت کیوں لگی اس کی وجہ بھی سامنے آ گئی ہے، اصل میں اس بولی میں شہزادہ محمد کے نمائندے کے ساتھ ایک اور عرب شہزادے نے ہی بولی دینی شروع کر دی اور دونوں ایک دوسرے پر بولی دیتے ہوئے پینٹنگ کی قیمت کو اس تاریخی سطح پر لے گئے کہ آج تک کوئی پینٹنگ اتنی مہنگی نہیں بکی تھی، شہزادہ محمد بن سلمان کے سامنے بولی دینے والے متحدہ عرب امارات کے حکمران محمد بن زید تھے۔ محمد بن زید کی جانب سے ایک نمائندہ بولی کے لیے آیا ہوا تھا اور محمد سلمان نے بھی اپنا نمائندہ بھیج رکھا تھا، ان دونوں کو ایک دوسرے کے متعلق نہیں معلوم تھا کہ وہ کس کے نمائندے ہیں بلکہ ان دونوں کو خوف تھا کہ وہ کہیں بولی ہار نہ جائیں اور کہیں ایسا نا ہو کہ یہ تاریخی تصویر قطری شاہی خاندان کا کوئی فرد خرید لے چنانچہ وہ ایک دوسرے کی بولی پر بولی دیتے چلے گئے اور اس طرح اس تصویر کی قیمت 4کروڑ 53لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔ واضح رہے کہ اس تصویر کی خریداری پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر شدید تنقید کی گئی تھی، جس پر انہوں نے متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ محمد بن زید کے ساتھ تصویر کا تبادلہ کر لیا اور تصویر کے بدلے انہوں نے ایک لگژری کشتی لے لی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…