بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

گوشت کو ایسے پکانا بلڈ پریشر کا مریض بناسکتا ہے

datetime 28  مارچ‬‮  2018 |

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ کو چکن، مچھلی یا گائے کے گوشت کے تکے، بھوننا یا روسٹ کی شکل میں پسند ہیں تو یہ عادت آپ کو ایک خاموش قاتل مرض کا شکار کرسکتی ہے۔جی ہاں کسی بھی قسم کے گوشت کو اس شکل میں کھانا آپ کو بلڈ پریشر کا مریض بنا سکتا ہے جو کہ آگے بڑھ کر فالج اور ہارٹ اٹیک سمیت متعدد خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ گوشت کو سیخوں میں بھوننا یا روسٹ شکل میں ہی کھانا پسند کرتے ہیں، ان میں بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق مہینے میں 15 بار کسی بھی قسم کے گوشت کو اس شکل میں کھانا یہ خطرہ بڑھاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ درجہ حرارت میں گوشت پکانے سے اس میں موجود پروٹین ایسے کیمیکلز خارج کرتا ہے جو کہ فشار خون کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ زیادہ آنچ پر پکنے پر گوشت سے جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ، ورم اور انسولین کی مزاحمت پیدا ہوسکتی ہے جو کہ آگے بڑھ کر ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ تکسیدی تناﺅ، ورم اور انسولین کی مزاحمت خون کی شریانوں کے اندرونی حصوں کو متاثر کرتے ہیں اور ایتھیروسلی روسس کا باعث بن سکتا ہے، یہ مرض امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے جبکہ شریانوں کو تنگ کرتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ایک لاکھ سے زائد ایسے مردوں و خواتین کا جائزہ لیا گیا جو کہ گائے، چکن یا مچھلی کا گوشت اکثر کھانے کے عادی تھے۔ محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض کا خطرہ کم کرنے کا بہترین طریقہ کار یہ ہے کہ وہ غذا کو تیز آنچ بشمول باربی کیو یا گرلنگ وغیرہ سے گریز کریں یا بہت کم کھائیں۔ اس تحقیق کے نتائج امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…