اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا سے ملک بدری ، مشی گن کے چرچ نے پاکستانی خاتون کو پناہ دے دی،بیٹی کی قبر پر جانے سے بھی محروم کردیاگیا، افسوسناک صورتحال

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)13 سال سے امریکا میں رہائش پذیر پاکستانی خاتون ملک بدری کے احکامات کے بعد چرچ پر رہنے پر مجبور ہوگئیں۔62 سال کی پاکستانی ماں کو امریکا چھوڑدینے کے احکامات ملے تھے جس کے بعد مشی گن کے ایک چرچ نے انہیں پناہ دینے کا اعلان کیا تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بزرگ پاکستانی خاتون شاہدہ نعیم 12 مارچ سے چرچ میں مقیم ہیں۔

شاہدہ نعیم 40 سال پہلے پاکستان سے کویت منتقل ہوئی تھیں جہاں وہ گھروں میں کام کرتی تھی تاہم تیرہ سال پہلے وہ نان امیگرینٹ ویزے پر امریکا آئی تھیں۔اب انہیں امریکا چھوڑنے کا حکم دیا جاچکا ہے اور وہ مشی گن کے چرچ میں پناہ گزین ہیں۔مشی گن میں واقع چرچ ان سیکڑوں گرجا گھروں میں سے ایک ہے جو ملک بدری کے احکامات کا سامنا کرنے والے افراد کو پناہ دیتا ہے۔کالامازو کے فرسٹ کانگریگیشنل چرچ کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ پاکستانی خاتون چرچ میں پناہ لی ہوئی ہیں کیوں کہ انہیں ملک بدری کا سامنا ہے۔شاہدہ نعیم نے کہا کہ امیگریشن حکام نے مجھے پاکستان واپس جانے کا کہا لیکن میں چرچ آگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ میں پاکستان واپس نہیں جاسکتی، میرا خاندان، میرا بیٹا یہاں ہے، میں نے اپنی بیٹی کو یہاں کھودیا، اس نے یہیں تعلیم حاصل کی اور یہیں اس کا انتقال ہوا، میں ہر روز اس کی قبر پر جاتی ہوں، لیکن جب سے میں چرچ میں ا?ئی ہوں قبر پر نہیں جاسکی۔62 سالہ شاہدہ نے کہا کہ میں اپنی بیٹی کو نہیں دیکھ سکتی اور اب اس کی قبر پر جانے سے بھی مجھے محروم کردیا گیا ہے، میری خواہش ہے کہ مجھے اس کے برابر میں دفن کیا جائے۔چرچ حکام کا کہناتھا کہ وہ دیگر افراد کی طرح شاہدہ نعیم کے معاملے میں بھی قانونی ماہرین اور ان سیاستدانوں سے رابطے میں ہیں جو اس کام میں ان کی حمایت کرتے ہیں تاکہ کوئی قانونی راستہ نکالا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…