اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کی آبی دہشتگردی، پاکستان کا پانی روکنے کیلئے مزید کتنے ڈیم بنانے کا اعلان کردیا

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

نئی دہلی(آئی این پی)بھارت کی آبی دہشتگردی جاری ، پاکستان کا پانی روکنے کیلئے مزید 3 ڈیمز بنانے کا اعلان کردیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ و پانی نتن گڈکری نے ہریانہ میں ایگریکلچرل سمٹ 2018 کی اختتامی تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ اترکھنڈ کے دریاوں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والے پانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے پانی

کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جا سکے۔مودی سرکار کے مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ جن تین دریاوں کا پانی پاکستان جاتا ہے وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے لیکن جن تین نہروں کا پانی بھارت کی تعمیر و ترقی کے لیے ضروری ہے اس پر پہلا حق بھارت کا ہے اس لیے اترکھنڈ کے ان تینوں دریاوں پر علیحدہ علیحدہ 3 ڈیم بنا کر اپنی ضرورت کا پانی جمع کر رکھیں گے، ان تینوں ڈیموں سے بھارتی پنجاب، ہریانہ اور راجستھان میں پانی کی کمی کو دور کیا جائے گا۔نتن گڈکری نے کہا کہ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے حصے میں تین دریا آئے تھے لیکن ہم ان سے اپنی ضرورت کے مطابق پانی استعمال نہیں کر پاتے تھے اور اضافی پانی پاکستان چلا جاتا تھا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان پانی کے معاہدے 1960 کی خلاف ورزی بھی ہے اس لیے وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تینوں دریاوں پر ڈیم بنا کر پانی کو جمع کرلیا جائے تاکہ وقت ضرورت کام آسکے۔واضح رہے متعصب بھارتی حکومت خشک موسم میں دریاوں کا پانی روک کر پاکستان میں پانی کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف مون سون میں جب دریاوں کا پانی عروج پر ہوتا ہے اپنے ڈیم کا پانی بھی پاکستان کی جانب چھوڑ دیتا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاوں میں سیلاب کی سی صورت پیدا ہوجاتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…