اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شام کے شہر مشرقی الغوطہ میں واقع بڑے شہر دوما سے ہزاروں شہریوں کا انخلا

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

بیروت(این این آئی)شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ میں واقع شہر دوما سے ہزاروں کی تعداد میں شہری اپنا گھر بار چھوڑ کر اسد رجیم کے عمل داری والے علاقے میں داخل ہو گئے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی کہ دوما سے گزشتہ رات قریباً ڈیڑھ ہزار افراد کا انخلا ہوا۔

بدھ کی رات دوہزار کے لگ بھگ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر شامی حکومت کے عمل داری والے علاقے کی جانب چلے گئے تھے اور مزید کا انخلا ابھی جاری ہے۔روس کی وزارت دفاع نے باغیوں کے زیر قبضہ علاقے اور شامی حکومت کے کنٹرول والے علاقے کے درمیان واقع ایک گذرگاہ الوافدین سے براہ راست ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کی ہے۔دوما سے شامی شہریوں کا انخلا روس کی ضمانت کے نتیجے میں ہی ہورہا ہے۔چند منٹ کے دورانیے کی اس ویڈیو میں بیسیوں افراد چھوٹے گروپوں کی صورت میں دوما شہر سے ایک نکڑ کی جانب آرہے ہیں اور اس کے بعد وہ مسلح فوجیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ایک ٹوٹی پھوٹی شاہراہ کی جانب جارہے ہیں۔ان میں سے بعض نے تھوڑا بہت سامان اٹھایا ہوا ہے اور خواتین نے اپنی گود میں کم سن بچے لے رکھے ہیں۔دوما مشرقی الغوطہ میں سب سے گنجان آباد علاقہ ہے اور شامی فورسز نے گذشتہ ایک ہفتے سے اس کا مکمل محاصرہ کررکھا ہے۔ اس پر باغی گروپ جیش الاسلام کا کنٹرول ہے اور اس نے تادم مرگ لڑنے کا اعلان کررکھا ہے۔تاہم شامی رصدگاہ کا کہنا تھا کہ دوما سے گھربار چھوڑ کر آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ جیش الاسلام اور شامی حکومت کے قریبی اتحادی روس کے درمیان سمجھوتے کے بعد شہر خالی کررہے ہیں۔ایک اور باغی گروپ احرار الشام نے بدھ کو مشرقی الغوطہ میں واقع اپنے زیر قبضہ قصبے حرستا کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا ۔

اس نے شامی فورسز سے باغیوں کے زیر قبضہ صوبے ادلب جانے کے لیے محفوظ راہداری کے بدلے میں انخلا پر رضامندی ظاہری کی تھی۔اس سمجھوتے کے تحت سیکڑوں مسلح باغی اور عام شہری شامی فوج کے محاصرے کا شکار حرستا سے نکل جائیں گے۔احرار الشام کے ترجمان منطہر فارس نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس ڈیل کے تحت حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جنگجو ادلب کی جانب چلے جائیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…