اتوار‬‮ ، 03 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملک میں 90 روز کیلئے جوڈیشل مارشل لاء لگانے کی تجویز،عمران خان کی مشاورت کے بغیر عبوری وزیراعظم کو قبول نہ کرنے کا اعلا ن کردیاگیا

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے چیف جسٹس سے ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی اصل ذمہ داری نگران وزیراعظم کی تقرری ہے، ساری قوم عدلیہ کی جانب دیکھ رہی ہے، عبوری وزیر اعظم کیلئے جن ناموں پر ڈسکس ہوا وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے،عمران خان کی مشاورت کے بغیر کوئی عبوری وزیر اعظم قبول نہیں کریں گے،

میں نے منی لانڈرنگ کی نہ ہی پاناما کیس سے کوئی تعلق ہے، میں 1974ء سے ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عبوری حکومت ہے، اس وقت پوری قوم کی نظریں عدلیہ کی جانب مرکوز ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کی اصل ذمہ داری نگران وزیر اعظم کی تقرری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بے شک چیف جسٹس ملک میں 90 روز کیلئے جوڈیشل مارشل لاء لگا دیں لیکن یہ مارشل لاء صرف الیکشن کیلئے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن انتشار اور خلفشار کے ماحول میں ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی ناپسندیدہ آدمی نگران وزیراعظم آ گیا الیکشن کا بھرم خاک میں مل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عبوری وزیرِ اعظم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا آنا بورڈ ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے صرف خورشید شاہ نہیں، عمران خان سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں سے مشاورت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اب تک جن ناموں پر ڈسکس ہوا وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ عمران خان کی مشاورت کے بغیر کوئی عبوری وزیر اعظم قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا کیس سپریم کورٹ میں ہے، نواز شریف نے مجھ پر سنگین الزامات لگائے ہیں لیکن میں نے منی لانڈرنگ کی نہ ہی پاناما کیس سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 1974ء سے ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ ملک میں خاص قسم کی فضا بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر کوئی گیا تو ملک نہیں چلے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکن ایجنڈے کے تحت کرنسی کو ڈی ویلیو کیا گیا، کوئی بعید نہیں یہ مزید ڈالر کا ریٹ بڑھائیں گے۔انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورہ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے اسے مشکوک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم وزیر اعظم سے پوچھتی ہے امریکی شخصیات سے بغیر کسی سیکرٹری خارجہ کے کیسے ملے، ساری قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ وزیر اعظم ملٹری سیکرٹری سمیت کسی بھی سٹاف کے بغیر کیا کرنے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…