جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ کے ریفرنسز کی سماعت آخری مرحلے میں داخل

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ کے ریفرنسز کی سماعت بھی آخری مرحلے میں داخل ہوگئی‘ دونوں ریفرنسز میں بیانات ریکارڈ کرانے کیلئے صرف دو گواہ باقی رہ گئے ‘ استغاثہ کی گواہ نورین شہزاد نے نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے بینک اکائونٹس سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔

نجی بینک کی افسر نورین شہزاد پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے جرح کرتے ہوئے مختلف سوالات کئے تو خاتون افسر نے خواجہ حارث کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے کنفیوژ کررہے ہیں ‘ فاضل جج محمد بشیر نے نیب کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ ان ریفرنسز میں صرف دو گواہ باقی رہ گئے ہیں تو نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ دو ہی گواہ رہ گئے ہیں ان میں واجد ضیاء اور نیب کے تفتیشی افسر شامل ہیں‘ عدالت نے دونوں ریفرنسز کی سماعت 29مارچ تک ملتوی کردی‘ دوسری طرف لندن فلیٹس ریفرنس کی سماعت (آج) جمعرات کو ہوگی اور استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔ بدھ کو احتساب عدالت میں نواز شریف کیخلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ نواز شریف عدالت میں پیش ہوئے ان کے ہمراہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر بھی تھے۔ نجی بینک کی خاتون افسر نورین شہزاد نے نواز شریف ‘ حسن نواز اور حسین نواز کے بینک اکائونٹس سے متعلق گزشتہ سماعت پر اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا اور آج اس بیان کی روشنی میں عدالت میں ای میل کی تفصیلات پیش کرنا تھیں تاہم نورین شہزاد مذکورہ افراد کے بینک اکائونٹس سے متعلق بینک کے ہیڈ آفس سے دستاویزات منگوانے سے متعلق ای میل پیش نہ کرسکیں اور عدالت کو بتایا کہ انہیں کوئی ای میل نہیں آئی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ دستاویزات منگوانے والی ای میل عدالت میں پیش کی جائیں جس پر فاضل جج نے استفسار کیا کہ کتنی ای میل ہیں۔

جس پر گواہ نے کہا کہ مجھے دستاویزات منگوانے سے متعلق کوئی ای میل نہیں ملا۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے گواہ سے سوال کیا کہ نیب کی طرف سے طلب کئے جانے سے متعلق کال اپ نوٹس کی کاپیاں کہاں ہیں؟ جس پر خاتون گواہ نے جواب دیا کہ کال اپ نوٹس نہیں آیا ای میل ہے۔ خواجہ حارث نے گواہ سے پوچھا کراچی سے دستاویزات منگوانے سے متعلق کوئی ای میل آئی ۔

خواجہ حارث کی طرف سے سوالات کی پوچھاڑ پر خاتون گواہ نے کہا کہ آپ مجھے کنفیوز کر رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے پوچھا کہ نیب کیتفتیشی نے آپکو دستاویز کا کہا، آپ نے ایک ای میل کی، یہ آپکا بیان ہے جس پر گواہ نے کہا کہ جی یہ میرا ہی بیان ہے۔ خواجہ حارث کی استغاثہ کی گواہ نورین شہزاد پر جرح مکمل ہونے پر فاضل جج نے نیب پراسکیوٹر سے پوچھا کہ ان ریفرنسز میں صرف دو گواہ رہ گئے ہیں؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ صرف دو گواہ ہی باقی رہ گئے ہیں جن میں واجد ضیا اور نیب کے تفتیشی افسر شامل ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 29 مارچ تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…