جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

وزارت داخلہ نے ریٹائرڈ جج صاحبان کی سکیورٹی کیلئے اہلکاروں کی تعیناتی کی منظوری دیدی، سب سے زیادہ پروٹوکول کس کو دیا گیا،تفصیلات منظر عام پر 

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت داخلہ نے اعلیٰ عدلیہ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس صاحبان کی سکیورٹی کیلئے 43 پولیس اہلکارتعینات کرنے کی منظوری دیدی ۔دستاویزات کے مطابق 16ریٹائرڈ چیف جسٹس صاحبان میں سے جسٹس ریٹائرڈ عبدالحمید ڈوگر کو ایک گن مین اور گھر کی سکیورٹی کیلئے دو کانسٹیبل سمیت کل تین اہلکار جبکہ چیف جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کے گھر کے لئے تین کانسٹیبل،ایک ہیڈکانسٹیبل اور سفر پر آنے جانے کے لئے دو ایس آئی ، چھ کانسٹیبل ، دوڈرائیوروں سمیت کل14اہلکار دیئے گئے ہیں۔

جبکہ تصدق حسین گیلانی کو ایک گن مین اور موبائل کے لئے ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک کانسٹیبل سمیت کل چار اہلکار تعینات کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔جسٹس ریٹائرڈانور ظہیرجمالی کو ایک گن مین اور موبائل کے لئے ایک ہیڈکانسٹیبل ، ایک کانسٹیبل اور ایک ڈرائیور سمیت ایک موبائل پک اپ چار ملازمین دیے گئے ہیں ۔جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ کو ایک گن مین کی سہولت میسر ہوگی ۔جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک کو ایک گن مین اور گھر پر دو کانسٹیبل تعینات کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ۔جسٹس ریٹائرڈ نواز عباسی کو ایک گن مین اور گھر پر دو کانسٹیبل تعینات کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ جسٹس ریٹائرڈ اقبال حمید الرحمن کو ایک گن مین کی سہولت دی گئی ہے ۔جسٹس ریٹائرڈ طارق پرویز کو ایک گن مین اور گھر پر دو کانسٹیبل تعینات ہوں گے ۔جسٹس ریٹائرڈ شاکر اللہ جان کو ایک گن مین کی سہولت دی گئی ہے۔جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کو ایک گن مین ، جسٹس ریٹائرڈ سرمد جلال عثمانی کو ایک گن مین ، جسٹس ریٹائر اختر سعید کوایک گن مین ، جسٹس امیر مسلم ہانی کو ایک گن مین ، جسٹس ریٹائرڈ راجہ فیاض کو ایک گن مین اور جسٹس ریٹائرڈ علی نواز کو ایک گن مین کی سہولت دی گئی ہے۔16ججز میں سے 14ججوں کو 15گن مین اور 12گھر پر تعینات گارڈز کی تعیناتی کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں جبکہ کل 43 پولیس اہلکار تعینات ہیں اور سب سے زیادہ پروٹوکول سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا ہے جس کی سکیورٹی کیلئے دو موبائل پک اپ سمیت14اہلکار اپنی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…