ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

جج ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ایک ڈرائیور اور ایک گارڈ رکھ سکتا ہے لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس کتنی بڑی ’’نفری‘‘ ہے؟ حیرت انگیز انکشافات، بڑا فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بلٹ پروف گاڑی رکھنے کے اہل نہیں ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے افتخار محمد چودھری کے زیر استعمال بلٹ پروف گاڑی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ دے دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے،

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جج صرف ایک ڈرائیور اور ایک گارڈ رکھ سکتا ہے لیکن سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس دو سب انسپکٹرز، نو کانسٹیبل، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور دو ڈرائیورز ہیں، ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلے میں کہا کہ افتخار محمد چودھری سمیت سپریم کورٹ کے بعض ریٹائرڈ ججز قانون پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریٹائرڈ ججز صرف ججز پنشن آرڈر کے تحت مراعات حاصل کر سکتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے دیگر ریٹائرڈ ججز بھی ریٹائرمنٹ کے بعد زائد مراعات لے رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کو بھی اختیار نہیں کہ ججز پینشن آرڈر میں درج مراعات سے زائد فوائد دیں، ریٹائرڈ ججز کو دی جانی والی مراعات کی حکومتی رپورٹ بھی فیصلے کا حصہ بنائی گئی ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی نہیں بلکہ سابق جسٹس عبدالحمید ڈوگر، تصدق حسین جیلانی، انور ظہور جمالی اور ناصر الملک، نواز عباسی اور طار ق پرویز بھی استحقاق سے زیادہ مراعات حاصل کر رکھی ہیں۔ریٹائرڈ جج ایک ملازم رکھ سکتا ہے لیکن ان ججز نے تین تین ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کو بھی اختیار نہیں کہ ججز پینشن آرڈر میں درج مراعات سے زیادہ فوائد دیں، ریٹائرڈ ججز کو دی جانی والی مراعات کی حکومتی رپورٹ بھی فیصلے کا حصہ بنائی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…