اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اغواء ہونے والا شخص قید سے نماز کے دوران فرار، جاتے جاتے طالبان کا بڑا نقصان کر گیا، طالبان ترجمان نے تصدیق کر دی

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک شخص جسے طالبان نے اغوا کیا ہوا تھا، اس نے نماز کی ادائیگی کے دوران طالبان کی بندوق چرا لی اور فائرنگ کرکے طالبان کو ہلاک کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے شخص نے طالبان کے نماز ادا کرتے وقت ان کی بندوق چرا لی اور فائرنگ کرکے سات طالبان کو ہلاک اور اٹھارہ کو زخمی کرنے کے بعد خود کو رہا کرا لیا،

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے پکتیکا کے ڈپٹی سکیورٹی چیف عبدالرؤف مسعود نے بتایا کہ اول خان اور مقامی پولیس افسر کو بدھ والے دن اغوا کر لیاگیا تھا۔ صوبہ پکتیکا پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور یہاں پر طالبان کا قبضہ ہے۔ مقامی پولیس افسر کو طالبان نے ہلاک کردیا اور اول خان کو وہ گومل میں طالبان کے کمپاؤنڈ لے گئے، جہاں 36 سالہ اول خان کو کئی گھنٹہ تک رکھا گیا۔ عبدالرؤف مسعود نے بتایا کہ جب طالبان ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے اس وقت اس نے ایک اغوا کار کی بندوق اٹھائی اور ان پر فائرنگ کر دی، اس کی فائرنگ سے سات طالبان ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہو گئے۔ اس حوالے سے صوبائی گورنر کے ترجمان محمد رحمان ایاز نے کہا کہ اول خان طالبان کی قید سے آزاد ہونے کے بعد اغوا کاروں کے پِک اپ ٹرک میں فرار ہوگیا۔ اس واقعے کے حوالے سے طالبان کے ترجمان نے دو افراد کو اغوا کرنے اور ان میں سے ایک شخص کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں تین جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کر دی ہے۔  افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے شخص نے طالبان کے نماز ادا کرتے وقت ان کی بندوق چرا لی اور فائرنگ کرکے سات طالبان کو ہلاک اور اٹھارہ کو زخمی کرنے کے بعد خود کو رہا کرا لیا، ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے پکتیکا کے ڈپٹی سکیورٹی چیف عبدالرؤف مسعود نے بتایا کہ اول خان اور مقامی پولیس افسر کو بدھ والے دن اغوا کر لیاگیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…