اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

’’پنش اے مسلم‘‘ جیسے گھناؤنے منصوبے کے سامنے آنے کے بعدبرطانیہ میں عورتوں کے گینگ نے سرعام تشدد کرکے 18 سالہ مسلمان لڑکی کو مار ڈالا،لرزہ خیز انکشافات

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

لندن( آن لائن ) برطانیہ میں خواتین کے ایک گینگ نے سرعام تشدد کرکے 18 سالہ مسلمان لڑکی کو مار ڈالا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے اہم شہر ناٹنگھم میں خواتین کے گینگ نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے دن دیہاڑے مسلمان لڑکی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

مقتولہ مریم مصطفیٰ کا تعلق مصر سے تھا جو کہ بیسٹن میں سینٹرل کالج میں انجینئرنگ کی طالبہ تھی۔ مریم مصطفیٰ کو ناٹنگھم میں وکٹوریا شاپنگ سینٹر کے باہر خواتین کے گینگ نے حملہ کیا اور اس کے سر پر لاتیں اور مکوں کی بارش کردی، حملے کے بعد مریم کو ناٹنگھم کے سٹی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ ایک ماہ تک کوما میں رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئی۔ مقتولہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ مریم کو چار ماہ قبل بھی اسی گینگ نے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا جب کو بس اسٹاپ پر کھڑی تھی، اس حملے کی شکایت پولیس کو کی گئی تاہم پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے بعد دوسری بار خواتین گینگ نے بیٹی پر حملہ کیا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ناٹنگھم شائر پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی مکمل تفتیش کررہے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے تاہم اب تک انہیں ملزمان کی شناخت یا ان سے متعلق کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ برطانیہ میں خواتین کے ایک گینگ نے سرعام تشدد کرکے 18 سالہ مسلمان لڑکی کو مار ڈالا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے اہم شہر ناٹنگھم میں خواتین کے گینگ نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے دن دیہاڑے مسلمان لڑکی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جو جان لیوا ثابت ہوا۔مقتولہ مریم مصطفیٰ کا تعلق مصر سے تھا جو کہ بیسٹن میں سینٹرل کالج میں انجینئرنگ کی طالبہ تھی۔  مقتولہ مریم مصطفیٰ کا تعلق مصر سے تھا جو کہ بیسٹن میں سینٹرل کالج میں انجینئرنگ کی طالبہ تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…