اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

لندن کے مصور کا عبدالستار ایدھی کومنفرد انداز میں خراج عقیدت

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

لندن (سی پی پی )استاد انسانیت عبد الستار ایدھی کی خدمات کو کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ ان کے چاہنے والے دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں، جو اپنے اپنے انداز میں انہیں سراہتے ہیں، ایسے میں لندن کے ایک مصور نے ایدھی کا خاکہ بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لندن کے ڈینیئل سوان نامی اسٹریٹ آرٹسٹ ایدھی صاحب کی بے لوث انسانی خدمات سے بے حد متاثر ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر لندن کے ٹرافلگر اسکوائر پر ان کا خاکہ

بنا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ڈینیئل سوان ٹرافلگر اسکوائر پر ایدھی صاحب کا خاکہ اس لیے بناتے ہیں کیونکہ یہ ایک مرکزی علاقہ ہے جہاں ہر مذہب اور رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ گزرتے ہیں۔ گفتگو کرتے ہوئے ڈینیئل سوان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی کا خاکہ بنانا ان کے لیے اعزاز کا باعث ہے۔انہوں نے بتایا کہ چند سال پہلے انہوں نے ایک پاکستانی امریکن شہری سے عبدالستار ایدھی کا نام سنا اور وہ ان کے گرویدہ ہوگئے۔ان کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی کا خاکہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ہر کوئی ان کی خوبصورت شخصیت، خدمت انسانیت کے جذبہ، ان کے دل اور خدمات سے واقف ہوسکے جو ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایدھی صاحب نے انسانیت کی عملی طور پر خدمت کر کے دکھائی ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ان کا کہنا تھا کہ ایدھی نے جس طرح یتیم بچوں کو سہارا دیا ، ایمبولینس کے ذریعے لا تعداد لاشوں کو اٹھایا، غریبوں اور نادار افراد کو کھانا کھلایا، یہ ایک عظیم کام تھا جس کے بارے میں دنیا کو ضرور جاننا چاہیے۔ڈینیئل سوان بھی عبدالستار ایدھی کے نقش قدم پر چلنا چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے لندن کے 50 ہزار سے زائد بے گھر افراد کی مدد کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آج وہ زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی کام کرتے اور خلق خدمت کی ہدایت دیتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آج دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت ایثار و محبت کی ہے جس کے لیے الفاظ کافی نہیں بلکہ کچھ کر دکھانا ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…