بدھ‬‮ ، 04 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

غلاف کعبہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی نہیں کی جاتی،سرکاری خطاط

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)کعبہ اللہ کے غلاف کسوہ کے سرکاری خطاط مختار عالم شقدر نے وضاحت کی ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں کسوہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ فیکٹری نے مستقبل میں استعمال کے لیے سانچے بنا رکھے ہیں،عرب ٹی وی کے مطابق مختار عالم شقدر کعبہ اللہ کے غلاف کسوہ کے سرکاری خطاط ہیں ۔

وہ اپنے پیش رو عبدالرحیم بخاری کے 1996ء میں انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔انھوں نے وضاحت کی کہ بعض لوگوں کے خیال میں کسوہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ فیکٹری نے مستقبل میں استعمال کے لیے سانچے بنا رکھے ہیں۔ان سانچوں کی تیاری کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔اول ،قرآنی آیات کا متن کاغذ کے کسی ٹکڑے پر ہاتھ سے لکھا جاتا ہے ،پھر انھیں ایک گرافک آرٹسٹ کمپیوٹر نظا م میں شامل کرتا ہے۔پھر کمپیوٹر سے اس متن کا ایک صاف کاغذ پر پرنٹ لیا جاتا ہے اور اس کو سانچے کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔پھر سانچے کو کشیدہ کاری کے شعبے میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں ہنر مند کشیدہ کار سنہرے اور نقرئی دھاگے کی مدد سے کسوہ کو سیتے اور قرآنی الفاظ کو نمایاں کرتے ہیں ۔ان کے بہ قول کسوہ فیکٹری کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے یہ مدد ملی ہے کہ اس ذریعے سانچوں کے ڈیٹا کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اس طرح اس کو ضائع ہونے سے بچا لیا جاتا ہے۔



کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…