جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

ٹرمپ کِم ملاقات سے پہلے ٹھوس اقدامات لازم ہیں، وائٹ ہائوس

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن (آئی این پی)وائٹ ہائو س نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے راہنما، کِم جونگ ان کے درمیان بالمشافی بات چیت پر اتفاق کے بدلے صفر رعایتیں دی گئی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس پریس سکریٹری سارا ہکابی سینڈرز نے کہا ہے کہ ہم طاقتور پوزیشن سے بات کر رہے ہیں، جو بات پچھلی انتظامیہ کے دور میں نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے شدید دبا کا ہی نتیجہ ہے۔

اور یہ کہ شمالی کوریا کی آواز کمزور ہے۔سینڈرز نے کہا کہ صدر تب تک ملاقات نہیں کریں گے جب تک وہ شمالی کوریا کی جانب سے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات ہوتے نہیں دیکھتے۔ جنوبی کوریا کے اہل کاروں نے کہا ہے کہ بین الکوریائی سربراہ اجلاس کے دوران ان سے عہد کیا گیا کہ وہ دیکھیں گے کہ جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کے تجربات بند ہو جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ صدر کو وہی کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتے تھے: شمالی کوریا کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تلف کر دے۔وائٹ ہاس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹرمپ نے یہ پیش کش حیران کن طور پر قبول کی، جس کا جمعرات کے روز جنوبی کوریا کے اہل کاروں نے اعلان کیا کہ وہ کِم سے مئی میں ملاقات کریں گے، جس کی تیاری کے لیے کئی ماہ لگے جس کام میں امریکی حکومت کی کئی متعلقہ ایجنسیاں لگی رہی ہیں۔جمعرات کو جنوبی کوریا کے اہل کاروں کی جانب سے شمالی کوریا کے راہنما کا زبانی پیغام پہنچایا اور جمعے کی صبح امریکی صدر نے چین کے صدر شی جن پنگ کو ٹیلی فون کیا، جس میں امریکہ شمالی کوریا کے سربراہان کی غیر معمولی ملاقات پر بات کی گئی۔وائٹ ہاس کے مطابق، ٹرمپ اور شی نے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان مکالمے کے امکان کو خوش آئند قرار دیا اور اس بات کا عزم کیا کہ شمالی کوریا پر تب تک دبا اور تعزیرات قائم رہیں گی جب تک وہ مکمل طور پر قابل تصدیق اور جوہری ہتھیاروں کو ناقابل تردید طور پر تلف کرنے کی جانب ٹھوس اقدامات نہیں کرتا۔

صدر ٹرمپ نے اس بات کی توقع کا اظہار کیا کہ شمالی کوریا کے راہنما کِم جونگ ان شمالی کوریا کے لیے ایک روشن راہ کا انتخاب کریں گے۔وائٹ ہاس ترجمان نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ملاقات کے مقام اور وقت کا ابھی تعین نہیں ہوا۔جمعے کی پریس بریفنگ میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے، سارا ہکابی سینڈرز نے کہا ہے کہ ہم کوئی رعایت نہیں دے رہے ہیں۔ اور یہ کہ ہم طاقت کی پوزیشن میں ہیں ۔

اور بات چیت کا انحصار شمالی کوریا کی جانب سے ٹھوس اور قابل ِ تصدیق اقدامات پر ہے۔ترجمان نے کہا کہ دنیا جانتی ہے کہ صدر ٹرمپ مذاکرات کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔تاہم، ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے لیڈر سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں، انھوں نے واضح کیا کہ صدر اپنے مشیروں اور ماہرین سے صلاح و مشورے کے بعد ہی فیصلے کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…