جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پارلیمنٹ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کو یقینی کیلئے اقدامات کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے،ختمِ نبوت ہمارے دین کی اساس ہے، اس کی حفاظت ہر مسلمان پر لازم ہے، مردم شماری اور نادرا کوائف میں شناخت چھپانے والوں کی تعداد خوفناک ہے،شناختی دستاویزات میں مسلم اور غیر مسلم کی مذہبی شناخت ضروری ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ دین ِ اسلام اور آ ئین پاکستان کے تحت غیرمسلم اقلیتوں کو حقوق حاصل ہیں اور ریاست پر لازم ہے کہ اقلیتوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کرے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ختم نبوت ہمارے دین کی اساس ہے اور اس کی حفاظت پرمسلمان پر فرض ہے، پارلیمنٹ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرے، حکومت اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ تمام شہریوں کے کوائف درست ہیں جب کہ نادرا ریکارڈ اور مردم شماری کے اعداد و شمار میں فرق کی تحقیقات کی جائے۔ عدالتی حکم نامے کے مطابق مردم شماری اور نادرا کوائف میں شناخت چھپانے والوں کی تعداد خوفناک ہے، ہرپاکستانی شہری کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی درست شناخت بتائے، اپنی شناخت چھپانے والا شہری ریاست کے ساتھ دھوکا دہی کا مرتکب ہوتا ہے، شناختی دستاویزات میں مسلم اور غیر مسلم کی مذہبی شناخت ضروری ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آئین میں مسلم اورغیرمسلم کی تعریف موجود ہے اس تعریف پر مبنی بیان حلفی لازمی قرار دیا جائے، نادرا اور دیگر متعلقہ ادارے شناختی کارڈ، برتھ سرٹیفکیٹس، انتخابی فہرستوں اور پاسپورٹ بنوانے والوں سے مذہبی بیان حلفی لیں، اور نادرا شہریوں کے لئے مذہب کی درستگی کرانے کے لئے ایک مدت کا تعین کرے۔ عدلیہ، مسلح افواج، سرکاری، نیم سرکاری، حساس اداروں اور اعلی سول سروس کے لئے بیانِ حلفی لیا جائے، اسلامیات اور دینیات کا مضمون پڑھانے کے لئے مسلمان اساتذہ کی شرط لازمی قرار دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…