اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کی اجازت نہیں دی گئی تو بڑے پیمانے پر خانہ جنگی ہوگی اور۔۔۔!،تنازع کے ثالث و ہندو مذہبی رہنما رائے شنکر نے مسلمانوں کوخطرناک دھمکی دیدی

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی دارالحکومت کی بابری مسجد تنازع کے ایک ثالث اور ہندو مذہبی پیشوا رائے شنکر نے خبر دار کیا ہے کہ اگر مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی تو ملک میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔بھارتی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارتی مذہبی پیشوا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے بغیر ہی حل کر لیں۔انہوں نے خبر دار کر دیا کہ اگر عدالتی مداخلت کے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہوتا

تو بھارت میں مذہبی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔بھارتی اخبار کے مطابق رائے شنکر نے اے آئی ایم پی ایل بی کو ایک خط لکھ کر خبر دار کیا کہ اگر اس معاملے میں کورٹ سے رجوع کیا گیا تو یہ ہندو اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہوگا تاہم اس معاملے کو اگر عدالت کے باہر ہی حل کر لیا جائے تونوں دونوں مذاہب کی اس میں جیت ہو سکتی ہے۔اپنے خط مین انہوں نے کہا کہ اگر عدالتِ عظمیٰ سے رابطہ کیا جائے گا تو اس صورت میں 4 آپشنز سامنے آسکتے ہیں جن میں عدالت مسلمانوں کو اس زمین سے دور کر سکتی ہے ٗیہ زمین ہندوؤں کو دی جاسکتی ہے، عدالت الہٰ آباد کے فیصلے کو برقرار رکھ سکتی ہے (جس میں ایک ایکٹر اراضی پر مسجد جبکہ 60 ایکٹر اراضی پر مندر بنانے کا حکم تھا) یا پھر پارلیمنٹ سے اس حوالے سے کوئی قانون سازی بھی کر سکتی ہے۔اپنے خط میں رائے شنکر نے اپنے خط میں کہا کہ مذکورہ 4 ا?پشنز میں سے جو بھی فیصلہ سامنے آئی تاہم اس کا نقصان قوم کو ہوگا بالخصوص مسلمان مذہب کو اس کا نقصان زیادہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمان بابری مسجد کی زمین ایسے ’لوگوں‘ کو نہیں دے سکتی جنہوں نے ان کی مسجد کو شہید کیا، تاہم دوسری جانب مسلمان یہ زمین بھارت کی عوام کو تحفے میں دینے کیلئے تیار ہے اور ایسے میں صرف ثالثی کے ذریعے ہی اس تنازع کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…