اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کے پاس پنکی پیر کی صورت میں غیب کا علم جاننے کی سہولت موجود ہے ،چوہدری سرور بال بال بچ گئے،رانا ثناء اللہ نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 5  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے بطور جماعت یا حکومت کسی بھی رکن اسمبلی کو ایک دمڑی کی پیشکش نہیں کی ، عمران خان کے پاس پنکی پیر کی صورت میں غیب کا علم جاننے کی سہولت موجود ہے اور وہ خود کہہ رہے ہیں کہ خیبر پی کے میں 17یا21اراکین بکے ہیں ،ہمارے پاس ایسی کوئی سہولت ہے اور نہ پنجاب میں اراکین کی خرید و فروخت کے حوالے سے کوئی ثبوت موجود ہے،

چوہدری سرور نے دعویٰ کیا تھاکہ اگر مجھے 55سے کم ووٹ ملے تو میں ٹکٹ کٹوا کر گلاسکو واپس چلا جاؤں گا اور اگران سے آف کیمرہ پوچھا جائے تو وہ کہیں گے میں بال بال بچا ہوں ۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے گزشتہ چند ماہ میں ہونے والی منفی سر گرمیوں کا مقصد صرف یہ تھاکہ اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں اورسینیٹ انتخابات نہ ہوں لیکن ان قوتوں کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ ان کی چالیں اپنی جگہ لیکن خدا کا بھی ایک فیصلہ ہوتا ہے جو منفی چالوں پر بھاری پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 35وو ٹوں کے ساتھ (ن) لیگ سینیٹ میں اکثریتی جماعت ہے جبکہ دوسرے نمبر کی جماعت کے 20اور تیسری کے 12ووٹ ہیں۔ میں نے سینیٹ انتخاب کے روز کہا تھاکہ ہم 11سیٹیں جیتیں گے اور ساتویں نشست کیلئے ہم نے کوشش کی ۔ اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کو تحفے دے رہی ہے اور پی ٹی آئی عوام دوست اور جمہوری قوتوں کے خلاف نبرد آزما ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ کہا جارہا ہے کہ چوہدری سرور 36کی بجائے 44ووٹ کیسے لے گئے تو یہ بھی دیکھیں کہ ہماری 7ویں نشست کے امیدوار کے عددی تعداد کے21ووٹ تھے وہ پھر کیسے 40ہو گئے ۔یہاں تھوڑی بہت تعلق داری چلتی ہے ۔ چوہدری سرور نے کہا تھاکہ میرے 60ووٹ ہوں گے اور پھرانہوں نے کہا کہ اگر میرے 55ووٹ نہ ہوئے تو میں ٹکٹ کٹوا کر گلاسکو واپس چلا جاؤں گا لیکن اب انہوں نے جھوٹی سیاست کرتے ہوئے

مٹھائی تقسیم کرنا شروع کر دی ہے ۔ اگر انہیں کامل علی آغا والے دو ووٹ نہ پڑتے تو چوہدری صاحب پکڑے گئے تھے اور ان کی دم میرے ہاتھ میں آ گئی تھی لیکن وہ دم دبا کر بھا گ گئے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو شرم نہیں آرہی کہ خیبر پختوانخواہ میں وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ان کے 17یا 21اراکین بکے ہیں لیکن ہمارے پاس پنجاب میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے اس لئے ہم کسی پر بلا وجہ الزام نہیں لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہے اور یہیں سے تحفے مل رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…