جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

گاڑیوں کی ڈگی میں نوٹوں کو بھر کر کون لایا؟جن 4سینیٹرز کے بارے میں پیش گوئی کی تھی بالاخر وہ ہی سینیٹر بن گئے،کون کس طرح بکا اور کس طرح خریداگیا؟ اہم سیاسی شخصیت نے نے بھانڈہ پھوڑ دیا‎

datetime 5  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) تحریک انصاف کے رہنما حامد الحق نے نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے الیکشن سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ سینٹ ووٹوں پر 32 کروڑ روپیہ جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے چار لوگوں کا نام لیا تھا

کہ یہی لوگ سینیٹرز بنیں گےاور وہی ہوا۔ سینیٹ انتخابات میں وہی چار لوگ سینیٹرز بنے، تم لوگ خواہ مخواہ لوگوںکی انرجی ووٹوں پر ضائع کر رہے ہو۔میں نے یہ خبرووٹنگ سے بھی پہلے بریک کی تھی میں نے پہلی مرتبہ خود کروڑوں روپے دیکھے ہیں، پیسے ایسے لگے ہوئے تھے جیسے کسی بھٹے میں اینٹیں لگی ہوئی ہوتی ہیں۔ حامد الحق نے کہا کہ جو جو لوگ پیسے اپنے ساتھ لائے تھے، وہ ووٹ لینے کے لیے پیسے دکھا رہے تھے تو میں نے بھی ایک گاڑی کی ڈگی کھولی اور پیسے دیکھے ،ادھر وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میںہارس ٹریڈنگ پنجاب میں نہیں بلکہسندھ اور خیبر پختونخوا میں ہوئی،عمران خان کے اپنے لوگ کے پی کے میں بِک گئے،پیپلز پارٹی کو بھٹو صاحب کی روح کا سوچنا چاہیے،پی پی پی اس اقدام سے آیان علی خوش ہوگی بینظیر بھٹو نہیں۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ لاجز کے سامنے پودا لگانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری اور شجرکاری مہم دونوں مشکل سے ہوتی ہے،جمہوری درخت کوکاٹنے کی بجائے پانی دینے کی ضرورت ہے،نواز شریف لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں، اُن کیلئے عوام کا جذبہ ناقابل بیان ہے،پاکستانی قوم ہر قدم پرنواز شریف کے ساتھ ہے،عوام نے جس طرح نواز شریف کا ساتھ دیا اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…