جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

دہشتگردوں کو شکست دینے کیلئے پاکستان نئے مواقع استعمال کرے، امریکا

datetime 5  مارچ‬‮  2018 |

واشنگٹن(سی پی پی) امریکہ نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے میں دہشت گردی کیخلاف جنگ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہے ، پاکستان کو نئے مواقع کا استعمال کرکے دہشت گردوں کو شکست دینا ہو گی ۔واشنگٹن میں پیٹاگون چیف کی ترجمان ڈانا ڈبلیو وائٹ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کے حوالے سے ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان مزید کام(ڈو مور)کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم موڑ ہے اور پاکستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ مزید اقدام کرے کیونکہ وہ دہشت گردی سے متاثر ہے لہذا ہم ان کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ کہاں مواقع دستیاب ہیں۔بریفنگ کے دوران جب افغان حکومت کی جانب سے طالبان کو مذاکرات کی دعوت پر پاکستان کے خیر مقدم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو دہشت گردی اور تشدد کو ترک کرنا ہوگا اور افغانستان کے آئین کی حمایت کرنی ہوگی۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سینئر ساتھی لیسا کرٹس نے اچانک اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور پاکستان کی اہم قیادت سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا بھی واشنگٹن کا دورہ شیڈول ہے، جس کا آغاز منگل سے ہوگا۔اس حوالے سے حکام نے تصدیقی کی کہ اپنے دورے کے دوران تہمینہ جنجوعہ وائٹ ہاؤس اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حکام سے ملاقات کریں گی جبکہ امن کے لیے بنائے گئے امریکی ادارے کے ماہرین سے بھی خطاب کریں گی۔سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ وائٹ ہاؤس میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی قومی سلامتی کونسل کی سینئر ڈائریکٹر لیسا کرٹس سے ملاقات کریں گی۔یاد رہے کہ لیسا کرٹس نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران پاکستان کے نئے تعلقات کو آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔اس بارے میں امریکا کے قائم مقام سیکریٹری آف اسٹیٹ الائس ویلس نے ایک انٹرویو میں پاکستان کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی۔

کہ امریکا پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ واشنگٹن پرانے تعلقات کی بحالی نہیں چاہتا ، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سرد جنگ میں پاکستان کا ایک اہم اتحادی بنا دیا تھا۔ان سب کے باوجود پینٹاگون حکام کی جانب سے واضح کیا کہ واشنگٹن حالیہ امریکی پالیسی میں بتائے گئے نئے حقائق کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھتا چاہتا ہے۔یہ پالیسی ایشیا میں چین اور روس کے بھڑتے اثر و رسوخ کو امریکی مفادات کے لیے بڑے خطرے کے طور پر دیکھے جانے کے باوجود دہشتگردی کے خطرے کو کم کرتی ہے۔اس پالیسی پیپرز میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ چین اور روس کے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے واشنگٹن کے خیال میں بھارت اسٹریٹجک ساتھی ہوسکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…