ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں پہلی بار قرآن مجید کے نادر و نایاب نسخوں کی نمائش

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے نیشنل میوزیم میں پہلی بار قران مجید کے نادر و نایاب نسخوں کی نمائش منعقد کی گئی ہے۔ یہ نمائش 27 فروری 2018 سے 31 مارچ تک جاری رہی۔نمائش میں شامل تمام قرآن مجید نیشنل میوزیم کی ملکیت ہیں اور اس کی پہلی بار نمائش کی گئی۔ اس میں خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے ہاتھوں کی تحریر کردہ قرآن مجید بھی شامل ہے جو خط کوفی میں جانور کی کھال کی جھلی پر لکھی گئی۔

اس میں شامل کلام پاک کوفی، نسخ، ریحان، ثلث اور بہاری خط میں ہیں۔ نیشنل میوزیم کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر بی آر منی نے بتایا کہ اس نمائش کے پس پشت کیوریٹر خطیب الرحمان کی کوششیں کار فرما ہیں۔خطیب الرحمان نے بتایا کہ اس میں سے کئی کلام پاک کے صفحات کو سونے کے پانی اور لاجورد سے سجایا گیا ہے جبکہ ایک کلام پاک میں جہاں جہاں اللہ کا نام آیا ہے اسے سونے سے لکھا گیا ہے۔اس نمائش میں ایک کرتے پر پورا قرآن لکھا ہوا ہے اور خطیب الرحمان نے بتایا کہ دنیا میں یہ واحد کرتا ہے جس پر مکمل قرآن ہے جو بہت ہی باریک بینی کے ساتھ خط نسخ میں لکھا گیا ہے اور اس میں اللہ کے 99 نام خط ریحان میں لکھے ہوئے ہیں۔اس نمائش کی خاص بات مشتی قران ہے جس کی پہلی بار نمائش ہوئی ہے۔ قرآن کے ان نسخوں کے ساتھ بادشاہ شاہ جہاں اور اورنگزیب عالم گیر کی مہریں بھی ہیں۔کیوریٹر خطیب الرحمان نے بتایا کہ خط بہاری عربی زبان میں بھارت کی دین ہے جو اپنے آپ میں بڑا کارنامہ ہے۔نمائش میں آئے مرزا ذکی احمد بیگ نے بتایا کہ نیشنل میوزیم کی یہ کوشش قابل ستائش ہے اور انھوں نے نیشنل میوزیم کے ڈائرکٹر جنرل سے گذارش کی ہے کہ اس قسم کی نمائش کا بڑے پیمانے پر ملک کے مختلف حصوں میں انعقاد کیا جائے تاکہ لوگ ہندوستان کی عظیم تاریخی وراثت سے روشناس ہو سکیں۔سابق کیوریٹر ڈاکٹر نسیم اختر نے بتایا کہ دہلی نیشنل میوزیم میں قرآن کے علاوہ فارسی کے نوادرات ہیں۔ معروف فارسی شاعر حافظ شیرازی اور سعدی کی گلستاں کے اولین نسخے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…