ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ذاتی تشہیر کیلئے ٹیکس پیئراور قوم کا پیسہ استعمال ،سیاستدانوں میں جرات ہے توذاتی تشہیراپنی جیب سے کرنے کی جرات پیدا کریں ،چیف جسٹس نے اشتہاروں پر قومی خزانہ لٹانے کا نوٹس لے لیا

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس پاکستان نے صوبائی حکومتوں کی جانب سے منصوبوں کی تشہیری مہم کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب ، سندھ اور خیبرپختونخوا سے ایک ہفتے میں تفصیلات طلب کرلیں جبکہ چیف جسٹس ثاقب نثارکا کہنا ہے کہ ذاتی تشہیر کیلئے ٹیکس پیئراور قوم کا پیسہ استعمال ہورہاہے جرات ہے توذاتی تشہیراپنی جیب سے کرنے کی جرات پیدا کریں ، کیا یہ اشتہاری مہم قبل ازوقت انتخابی دھاندلی کے مترادف نہیں ہے ۔چیف جسٹس

نے یہ نوٹس گزشتہ روز لیا ہے اور چیف جسٹس نے کہا کہ صوبائی حکومتیں منصوبوں کی تشہیرکیلئے بڑے بڑے لوگو اورتصویروں کیساتھ اشتہارات دیتی ہیں ان اشتہاری مہم پراربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں ٹیکس پیئرکے پیسے سے ذاتی تشہیر کی جارہی ہے ، اشتہارات دینے والے ذاتی تشہیر اپنی جیب سے ادا کرنے کی جرت پیدا کریں ، کارکردگی اتنی بہترہونی چاہیے کہ اشتہاردینے کی ضرورت ہی نہ پڑے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اربوں روپے اشتہارات کی مد میں لگائے جارہے ہیں ، کیا خرچ کیا جانے والا پیسہ اپستالوں میں نہیں لگنا چاہیے تھا ؟اسپتالوں میں ادویات نہیں مل رہیں اورسندھ کے ساڑھے4 ہزاراسکولوں میں پینے کا پانی میسرنہیں ، کیا یہ اشتہارات قبل ازوقت اانتخابی دھاندلی کے مترادف نہیں ؟ کیا یہ قانون کے مطابق ہیں ؟ چیف جسٹس نے پنجاب ، سندھاورخیبرپختونخوا کے سیکریٹری اطلاعات اور چیف سیکریٹریز سے تمام میڈیا ہاوسزکودیئے گئے اشتہارات سمیت تمام تفصیلات ایک ہفتے میں طلب کرلی ہیں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ از خود نوٹس کی سماعت 12 مارچ کو کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…