ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

وہ امداد اس وقت تک روک لیتے ہیں جب تک ان کی جنسی خواہشات پوری نہ کریں، شام میں غذائی امداد کے بدلے کون سا گھناؤنا کام ہو رہا ہے؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) جنوبی شام کے علاقوں میں امدادی سامان تقسیم کرنے والے بعض مرد غذائی امداد کے بدلے عورتوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کی ایما پر جنوبی شام کے علاقوں میں امدادی سامان تقسیم کرنے والے بعض مرد غذائی امداد کے بدلے عورتوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تین سال پہلے تیار کی جانے والی رپورٹ میں اس مسئلے کے بارے میں خبردار کر دیا گیا تھا لیکن اب تک جنوبی شام کے علاقوں میں امدادی کارکنوں کے ہاتھوں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور خیراتی اداروں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ وہ جنسی استحصال کے بارے میں زیرو برداشت کی پالیسی رکھتے ہیں لیکن وہ پارٹنر تنظیموں کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے۔ اس موقع پر بی بی سی کو امدادی کارکنوں نے بتایا کہ امدادی اداروں میں جنسی استحصال اتنا زیادہ پھیلا ہوا ہے کہ شامی عورتیں ان مراکز میں جانے سے انکار کرنا شروع ہو گئی ہیں، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں آنے والی خواتین خوراک کے بدلے اپنا جسم دینے کے لیے تیار ہیں۔ ایک کارکن نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ بعض خیراتی اداروں نے جنسی استحصال کے بارے میں چشم پوشی کی پالیسی اپنا رکھی ہے کیونکہ شام کے خطرناک علاقوں جہاں انٹرنیشنل اداروں کے اہلکاروں کا جانا ممکن نہیں ہے، وہاں مقامی پارٹنرز کے ذریعے امداد پہنچانا واحد راستہ ہے۔ وائسز فرام سیریا 2018 نامی رپورٹ کے مطابق ایسی عورتیں جن کے خاوند فوت ہو چکے ہیں اور یا جو عورتیں طلاق یافتہ ہیں وہ آسان ہدف تصور کی جاتی ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک خیراتی ادارے کی مشیر ڈینیل سپنسر کو 2015ء میں اردن میں مہاجرین کے کیمپ میں عورتوں کے ایک گروپ نے اس استحصال کے بارے میں بتایا تھا۔

ڈینیل سپنسر کو کئی عورتوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔ ان عورتوں نے بتایا کہ شام کے علاقوں داریا اور کونیٹرا میں سیکس کے بدلے امداد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ ان عورتوں نے بتایا کہ وہ لوگ امداد اس وقت تک روک لیتے ہیں جب تک ان کی جنسی خواہشات پوری نہ کی جائیں، وہ لڑکیوں اور عورتوں کے فون نمبر مانگتے ہیں اور پھر گھر تک گاڑی میں لفٹ بھی دیتے ہیں۔ جنوبی شام کے علاقوں میں جہاں عورتوں اور لڑکیوں کو تحفظ کی ضرورت ہے انہیں خوراک اور صابن جیسی چیزوں کے بدلے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…