جمعرات‬‮ ، 02 جولائی‬‮ 2026 

شہباز شریف کے جلسے میں خاتون کے ساتھ شرمناک سلوک، غنڈے سرعام ہی بے قابو، حدیں پار کر لیں، یہ خاتون کون ہیں اور کہاں سے آئی تھیں؟ افسوسناک انکشافات

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

پتوکی (مانیٹرنگ ڈیسک) پتوکی میں ہونے والے ن لیگ کے جلسے میں خاتون کے ساتھ کارکنان نے بدتمیزی کی اور دھکے بھی دیے، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ خاتون نے اپنے ساتھ بدسلوکی پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے انصاف کی اپیل کی ہے جس پر مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب قائم مقام صدر شہباز شریف نے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تحصیل پتوکی میں مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام ہونے والے جلسے میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی تقریر کے بعد وہاں موجود لیگی کارکنان نے ایک خاتون سے بدتمیزی کی۔ اس خاتون جس کا نام زیبا رانا ہے نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہ نواز لیگ یوتھ ونگ کی رہنما ہیں، زیبا رانا نے کہا کہ مانسہرہ، لودھراں سمیت ن لیگ کے دیگر جلسوں میں بھی گئی ہوں، آج ہم پتوکی آئے تھے، یہاں کچھ لڑکوں نے بد تمیزی کی اور ہمارے کپڑے کھینچے، جس کی وجہ سے ان کے بازو پر چوٹ بھی آئی اور ان کے ہاتھ کی چوڑیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میاں صاحب یہ دیکھیں میرے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے، زیبا رانا نے کہا کہ شہبازشریف سے کہتی ہوں انہیں سخت سزا دیں، متاثرہ خاتون نے شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ نواز لیگ کے جلسوں میں خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ جب میڈیا پر یہ خبر نشر ہوئی تو ترجمان پنجاب حکومت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اس واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او قصور سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس خاتون ورکر سے ناروا سلوک کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں فی الفور گرفتار کیا جائے کیونکہ ایسا سلوک کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

ن لیگ کے جلسے میں خاتون سے ناروا سلوک پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنا ردعمل دیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا نے کہا کہ ایک طرف خاتون کو لیڈر بنانے کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف خواتین سے ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ جو کچھ ہوا اس پر میں شرمندہ ہوں، خواتین کے ساتھ ایسا سلوک بہت افسوس کی بات ہے۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے لیکن سیاسی لیڈرشپ ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگی ہے، خواتین کے مسائل پر کسی کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ عائشہ گلالئی نے کہا کہ تحریک انصاف سے یہ کلچر شروع ہوا، تحریک انصاف میں اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا۔ عوامی تحریک نے ردعمل میں کہا کہ خواتین کو قتل کرنے والوں کے نزدیک خواتین کو دھکے دینا کوئی جرم نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چین کا نظام


ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…