ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے مشال قتل ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا ،تحریک انصاف کے کس رہنما کو گرفتار کرنے کا حکم دیدیا گیا

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سپریم کورٹ نے مشال خان قتل از خود نوٹس کیس نمٹا دیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مشال قتل ازخود نوٹس کی سماعت کی۔اس موقع پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مشال قتل کیس کے مجرموں کو سزا ہوچکی ہے جبکہ بری ہونے والے ملزمان کے خلاف صوبائی حکومت نے ہائیکورٹ میں اپیل کر رکھی ہے۔چیف جسٹس نے قرار دیا کہ مجرموں کو سزا ہوگئی جس کے

بعد ازخود نوٹس نمٹا دیا گیا۔ لندن میں موجود مشال خان کے والد لالہ اقبال نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مشال قتل کے ماسٹرمائنڈ پی ٹی آئی کونسلرعارف کو بھی گرفتارکرنے کا مطالبہ کردیا۔مشال کے والد کا کہنا تھا کہ جو فیصلہ آیا ہے وہ کافی حد تک ان کے موقف کی تصدیق ہے، جن لوگوں کو بری کیا گیا ہے اس حوالے سے ہائی کورٹ سے رابطہ کریں گے اور انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ عدالت نے جو فیصلہ دیا ہے وہ اس سے کافی حد تک مطمئن ہیں اور فیصلے کو سراہتے ہیں۔مشال خان کے والد نے کہا کہ مجرم عمران کو سزائے موت سنائی گئی ہے جس نے مشال خان پر گولیاں چلائی تھیں اور سزائے موت ٹھیک سنائی گئی۔ لالہ اقبال کا کہنا تھا کہ 25 افراد کو رہا کر کے پورا انصاف نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کونسلر عارف خان سمیت 3 ملزمان تاحال مفرور ہیں، پتہ نہیں یہ ملزمان پولیس کو ابھی تک کیوں نہیں ملے۔انہوں نے کہا کہ 13 اپریل کے واقعے کے بعد میری بیٹیاں اسکول اور یونیورسٹی نہیں گئیں، میری بیٹیاں ٹاپ کرتی تھی لیکن دھمکیوں کی وجہ سے تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں۔لالہ اقبال نے مزید کہا کہ میرا مشال تو واپس نہیں آ سکتا لیکن میں خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔مقتول مشال خان کے بھائی ایمل خان کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ

ہمارا مطالبہ تھا کہ تمام ملزمان کو سزا دی جائے، خیبرپختونخوا پولیس مفرور افراد کو گرفتار کرے۔فیصلے پر اطمینان سے متعلق سوال پر ایمل خان نے کہا کہ اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد کوئی بیان دیں گے تاہم انہوں نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ صوابی یونیورسٹی کا نام مشال خان کے نام پر رکھنے کا اپنا وعدہ پورا کریں۔خیال رہے کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 فروری کو مشال قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک

مجرم کو سزائے موت، 5 کو عمر قید جب کہ 25 کو 4،4 سال قید اور 26 افراد کو عدم ثبوت پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔۔خیال رہے کہ اس کیس کی ستمبر2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں جن میں 68 گواہ پیش ہوئے جب کہ ہری پور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج فضل سبحان نے 27 جنوری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔عبدالولی خان یونیورسٹی کا 23 سالہ نوجوان مشال خان صوابی کا رہائشی اور جرنلزم کا

طالب علم تھا۔گزشتہ سال 13 اپریل کو مشتعل ہجوم نے مشال کو توہین مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کرکے ابدی نیند سلادیا۔واقعے کے دن ہی اس قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کیا گیا۔واقعے کے بعد سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی جب کہ جے آئی ٹی نے مشال کو بیقصور قرار دیا اور مقدمے میں ویڈیو کی مدد سے 61 ملزمان کو نامزد کیا گیا جن میں تحریک انصاف کا تحصیل کونسلر عارف ، طلبا تنظیم کا رہنما صابر مایار اور یونیورسٹی کا ایک ملازم اسد ضیا تاحال مفرور ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…