ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

فروخت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد نیا منصوبہ،نیویارک میں پی آئی اے کے روز ویلیٹ ہوٹل کے ساتھ اب کیا، کیاجارہاہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے نیویارک میں روز ویلیٹ ہوٹل کو لیز پر دینے کی تجویز پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس قومی اثاثہ کو کسی قیمت پر لیز دینے کے حوالہ سے اقدامات نہ اٹھائے جائیں ٗ قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے آئندہ اجلاس میں وضاحت طلب کر لی۔ پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر شزرا منصب علی خان کی زیر صدارت ہوا۔

جس میں کمیٹی کے ارکان ملک اعتبار خان، ڈاکٹر نثار احمد جٹ، میاں طارق محمود، چوہدری سلمان حنیف خان، عارفہ خالد پرویز، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ، نفیسہ عنایت اﷲ خان خٹک، نعیمہ کشور خان سمیت متعلقہ سرکاری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور نے کمیٹی کو پارلیمنٹرینز کو پی آئی اے کی ٹکٹوں کے حوالہ سے بریفنگ دی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے ہدایت کی کہ بغیر کسی کٹوتی کے ٹکٹوں کی مد میں ہر پارلیمنٹیرینز کو ووچرز کی بجائے تین لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے اور سفارش کی جائے کہ ٹکٹوں کی تعداد 20سے بڑھا کر 30کی جائے۔ پی آئی اے کے قائم مقام چیئرمین نے کمیٹی کو نیویارک میں روز ویلیٹ ہوٹل کی آمدنی کے حوالہ سے مالی سال 2016ء کی تفصیلات فراہم کیں اور بتایا کہ اس ہوٹل کا ریونیو 96.450ملین ڈالر تھا جبکہ اس کا منافع 1.540ملین ڈالر رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایوی ایشن ڈویژن کا اس ہوٹل کی فروخت کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین اور پروفیشنلز نے اس ہوٹل کی آمدن میں اضافہ کیلئے اس کو 30سے 40سالوں کی لیز پر دینے کی تجاویز دی ہیں، اس پر کمیٹی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور سختی سے ہدایت کی کہ اس ہوٹل کو کسی قیمت پر لیز پر دینے کے اقدامات نہ اٹھائے جائیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو کو طلب کرکے نیویارک کیلئے پی آئی اے کی پروازوں کی بندش کے حوالہ سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کے جوائنٹ سیکرٹری نے گورنمنٹ ریسٹ ہاؤسز کے بجٹ کے حوالہ سے کمیٹی کو بریفنگ دی جس میں انہوں نے بتایا کہ وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات اور پاک پی ڈبلیو ڈی ان ریسٹ ہاؤسز کی دیکھ بھال اور مرمت کے فرائض سرانجام نہیں دے رہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کی زیر نگرانی لاجز، ہاسٹلز اور فیملی سویٹس کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔ کمیٹی نے وزارت ہاؤسنگ و تعمیرات کو ہدایت کی کہ لاجز، ہاسٹلز اور فیملی سویٹس میں مقیم تمام سرکاری افسران کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں پش کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…