پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق تحفظات ،الیکشن نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)الیکشن کمیشن کے سامنے پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اپنے تحفظات کے انبار لگا دیئے اور الیکشن کمیشن کے سامنے موقف رکھا کہ حلقہ بندیاں مردم شماری کی بنیاد پر نہیں بلکہ ووٹر فہرستوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔ پیر کو الیکشن کمیشن میں نئی حلقہ بندیوں اور ووٹر فہرستوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر کی صدارت میں اجلاس ہوا۔

اجلاس میں پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کے نمائندوں نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے۔اجلاس کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بتایا کہ جہاں آبادی میں زیادہ اضافہ نہیں وہاں تبدیلی نہیں کریں گے ٗ پانچ مارچ کو فہرستیں لگنے کے بعد اپنے اعتراضات اٹھائیں گے۔تحریک انصاف، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان نے بھی حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے غیر مطمئن ہیں ٗقانون کے مطابق کسی بھی حلقے میں 10 فیصد سے زیادہ ووٹوں میں فرق نہیں ہونا چاہیے۔جماعت اسلامی کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں خواتین ووٹرز کی تصاویر اور رجسٹریشن میں کمی پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ آئین کے رولز 10کی شق 5میں بتایا گیا ہے کہ حلقہ بندیاں کیسے ہوں گی، پٹوار سرکل کسی صورت نہیں ٹوٹ سکتا، ہم سی ڈبلیو سی کی میٹنگ میں تمام نکات رپورٹ کریں گے، اس کے بعد حتمی رائے پیش کی جائے گی، مردم شماری کی گائیڈ لائن میں ابہام موجود ہیں، اس میں کہیں تاریخ درج نہیں ہے اور نہ ہی سیکشن دس کا ذکر ہے الیکشن کمیشن کے سامنے پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اپنے تحفظات کے انبار لگا دیئے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…