ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نیپال بھارت تعلقات میں’ چین کارڈ ‘نے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لی،چین کے حامی سیاستدان وزیراعظم بن گئے، حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

کھٹمنڈو(مانیٹرنگ ڈیسک) نیپال ، بھارت تعلقات میں چین کارڈ نے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لی ،چین کے نیپال کے ساتھ کئی برسوں سے تعلقات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،چین نے نیپال کے کئی منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے چین اور نیپال ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے ہیں۔نیپال میں حالیہ انتخابات میں بھی چین کی حامی سیاسی جماعت’یو ایم ایل‘ جیت گئی ہے جس کے چیئرمین کیپی اولی نے نیپال کے اکتالیسویں وزیراعظم کے طور پر اقتدار سنبھال لیا ہے۔

اولی چین کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔گزشتہ دنوں سا?تھ چائنا مارننگ پوسٹ ہانگ کانگ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کیپی اولی نے کہا تھا کہ وہ چین کیساتھ تعلقات مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں تا کہ بھارت کیساتھ معاملات کرنے میں زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کرسکیں اور بھارت نیپال تعلقات کی خصوصی شقوں پر بھی نظر ثانی کرنے کے حق میں ہیں جن میں بھارتی فوج میں نیپالی سپاہیوں کی ملازمت کی شق بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ نیپال کے دو ہمسائے ہیں اس لئے وہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے پر انحصار نہیں کرسکتے۔یہ بات انہوں نے خاص طور پر بھارت کے پس منظر میں کہی تھی۔انہوں نے چینی کمپنیوں کے ان ٹھیکوں پر بھی نظر ثانی کرنے کا عندیہ دیا جو سابق حکومت نے منسوخ کردیے تھے۔تجریہ نگاروں کے مطابق اس ساری صورتحال سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نیپال کے وزیراعظم کیپی اولی بھارت کیساتھ معاملات میں چینی کارڈ استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت کی حامی سیاسی جماعت’نیپالی کانگریس‘ نیپال کے حالیہ انتخابات میں شکست کھا چکی ہے اس لئے بھارت کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ تجزیہ نگار اس ساری صورتحال کے ذمہ دار بھارتی بیوروکریٹس کو سمجھتے ہیں جنہوں نے ماضی قریب میں اس صورتحال اداراک نہیں کیا تاہم اب ظاہر ہے کہ چینی کارڈ کے مقابلے میں نیپال بھارت کیساتھ اپنی وکٹ پر کھیلنے کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ تری بھون یونیورسٹی کے ڈاکٹر راج بھاک کا کہنا ہے کہ بھارتی پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس وقت بھارت اپنے دوستوں کے لئے بے فائدہ ہے اور دشمنوں کو بھی وہ کوئی نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…