منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

این اے 125، انتخابی عذرداری،فیصلہ 30 اپریل کو سنایا جائے گا

datetime 28  اپریل‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک)الیکشن ٹربیونل نے وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق کے خلاف انتخابی عذرداری پر حتمی دلائل مکل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔الیکشن ٹربیونل وفاقی وزیر کے خلاف دو سال قبل دائر کی جانے والی انتخابی عذرداری پر فیصلہ تیس اپریل کو سنائے گا۔وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے خلاف تحریک انصاف کے رہنما حامد خان نے انتخابی عذرداری دائر کی ہے جس میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے اور خواجہ سعدرفیق کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی گئی۔پیر کے روز تحریک انصاف کے امیدوار حامد خان اور مسلم لیگ نون کے وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کے وکلا نے باری باری الیکشن ٹربیونل کے سامنے حمتی دلائل دیئے۔الیکشن ٹربیونل ایک ایسے وقت میں تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کی انتخابی عذرداری پر فیصلہ سنائے گا جب چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی جوڈیشل کمیشن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی عدالتی چھان بین کررہا ہے۔
عام انتخابات میں خواجہ سعد رفیق لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو پچیس سے کامیاب ہوئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار حامد خان نے ان کے خلاف دوہزار تیرہ میں انتخابی عذرداری دائر کی تھی۔لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو پچیس ان چار انتخابی حلقوں سے ایک ہے جن کے بارے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھاندلی کے الزامات لگائے تھے اور ان کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔الیکشن ٹربیونل کے سامنے حامد خان کے وکیل محمد حسین چوٹیا نے حتمی دلائل میں الزام لگایا کہ این اے 125 میں دھاندلی ہوئی ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے کچھ دستاویزات کا حوالہ بھی دیا۔ حامد خان کے وکیل نے دلائل میں اختتام پر استدعا کی کہ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو نااہل قرار دیا جائے۔خواجہ سعد رفیق کے وکیل بیرسٹر عمر نے اپنے حتمی دلائل میں دھاندلی کے الزامات کو رد کیا اور ٹربیونل سے درخواست کی کہ وہ وفاقی وزیر کے خلاف انتخابی عذرداری کو مسترد کردیں۔تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کی انتخابی عذرداری پر شروع میں سماعت کاظم علی ملک پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے کارروائی کی تاہم حامد خان کے وکلا کی جانب سے ٹربیونل کے سربراہ پر عدم اعتماد کے بعد کاظم علی ملک اس عذرداری پر سماعت سے الگ ہوگئے تھے اور عذرداری الیکشن کمیشن کو واپس بھجوادی تھی۔الیکشن کمیشن نے عذرداری پر کارروائی کے لیے اسے دوسرے الیکشن ٹربیونل کو بھجوادیا رشید محبوبی کی سربراہی میں قائم ہے اور اسی ٹربیونل نے عذرداری پر سماعت کی۔الیکشن ٹربیونل نے انتخابی عذرداری پر وکلا کے حتمی دلائل سننے کے بعد کارروائی مکمل کرلی اور اعلان کیا کہ تیس اپریل کو فیصلہ سنایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…